السلام علیکم !
میری شادی 2004 میں ہوئی تھی اور میری 3 بیٹیاں ہیں ، میری بیوی نے ہماری شادی کے 15 سال بعد اپنی مرضی سے طلاق لے لی۔ اس نے اب دوبارہ شادی کر لی ہے اور وہ بیٹیوں کو %50 وقت اپنے نئے گھر میں نئے شوہر کے ساتھ رکھنا چاہتی ہے۔ باقی %50 وقت میری بیٹیاں میرے ساتھ رہیں گی۔ اس صورت حال میں مشورہ دیں کہ بیٹیاں صرف میرے ساتھ رہیں اور اپنی ماں سے ملیں یا بیٹیاں اپنی ماں اور اپنے شوہر کے ساتھ بھی رہ سکتی ہیں۔
واضح ہوکہ طلاق کی صورت میں بچیوں کی عمر نو سال مکمل ہونے تک ماں ان کی پرورش کی زیادہ حقدار ہوتی ہے ، بشرطیکہ اس دوران وہ ان بچوں کے کسی غیر ذی رحم محرم سے نکاح نہ کر لے ، ورنہ ماں کا یہ حق ختم ہو کر علی الترتیب ان بچیوں کی نانی اس کے بعد دادی پھر خالہ اور پھوپھی کو حاصل ہوگا ، اور اس مدت کے بعد باپ ان بچیوں کو اپنی تحویل میں لے سکتا ہے ، چنانچہ صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی مطلقہ بیوی نے ان بچیوں کے کسی غیرذی رحم محرم سے نکاح کیا ہو ، تو اس کا حق پرورش ختم ہو چکا ہے ، اور اگر مذکور بچیاں نو سال کی ہو چکی ہوں ، تو والد ان بچیوں کو اپنی تحویل میں لے سکتا ہے ، البتہ اگر والدہ اپنی ان بچیوں سے ملنا چاہے تو والد کے لئے اس سے منع کرنا شرعا جائز نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے ۔
كما في الفتاوى البزازية : أحق الناس بالولد حال قيام النكاح و بعد الفرقة الأم فإن ماتت أو تزوجت بأجنبي لا بعم الصغير أو الجدة بجد الصغير فأم الأم ثم أم الأب الخ (مسائل الحضانة، ج2، ص 543، ط: رشيدية)-
وفي المبسوط للسرخسي : وفي نوادر هشام عن محمد - رحمه الله تعالى - إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق بها الخ (باب حكم الولد عند افتراق الزوجين، ج 5،ص 208، ط : دار المعرفة، بيروت)-
و في فتاوى قاضي خان : لأن للأب ولاية أخذ الجارية إذا بلغت حد الشهوة الخ (فصل في الحضانة، ج 2، ص 546، ط : رشيدية)-
وفي تنوير الأبصار مع الدر : والأم والجدة أحق بهاحتى تحيض وغيرهما أحق بها حتى تشتهى (وقدر بتسع وبه يفتى ) (باب الحضانة، ج 3، ص 566، ط : سعيد)-
و في الفتاوى الهندية : أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم ( إلى قوله) وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة، وإن علت، فإن لم يكن للأم أم فأم الأب أولى ممن سواها، وإن علت (إلى قوله) فإن ماتت أو تزوجت فالأخت لأب وأم، فإن ماتت أو تزوجت فالأخت لأم، فإن ماتت أوتزوجت فبنت الأخت لأب وأم، فإن ماتت أو تزوجت فبنت الأخت لأم لا تختلف الرواية في ترتيب هذه الجملة إنما اختلفت الروايات بعدهذا في الخالة والأخت لأب ففي رواية كتاب النكاح: الأخت لأب أولى من الخالة وفي رواية كتاب الطلاق: الخالة أولى الخ (الباب السادس عشر في الحضانة، ج 1، ص 541، ط : دار الفكر، بيروت)-
وفيها أيضا : و إنما يبطل حق الحضانة لهؤلاء النسوة بالتزوج إذا تزوجن بأجنبي، فإن تزوجن بذي رحم محرم من الصغير كالجدة إذا كان زوجها جدا لصغير أو الأم إذا تزوجت بعم الصغير لا يبطل حقهاالخ (الباب السادس عشر في الحضانة، ج 1، ص 541، ط : دار الفكر، بيروت)-