السلاعلیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ: کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں ایک شخص تین طلاق اپنی بیوی کودے چکا اور بیوی نے عدت بھی مکمل کرلی ہے ،اب دوبارہ اسی عورت سے زبردستی نکاح کرلیا کیایہ نکاح درست ہے؟مکمل وضاحت فرمادیں، شکریہ۔
سوال میں مذکور شخص اگر واقعۃً صاف لفظوں میں جیسے "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں "کے ذریعے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے چکا ہو، تو اس شخص کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ،اب رجوع نہیں ہو سکتا اور بغیر حلالہ شرعیہ کےبغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہذا مذکور شخص کا تین طلاق کے بعد بیوی کے حرام ہونے کے علم کے باوجود اسے زبردستی اپنے ہاں رکھنا اور عورت کا اسے اپنے اوپر قدرت دینا ناجائز اور حرام ہے، جتنا عرصہ وہ ساتھ رہیں گے حرام کاری میں مبتلا رہیں گے، ان دونوں پر لازم ہے کہ فورا ًایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کر کے مؤاخذہ اخروی سے سبکدوشی حاصل کریں، بصورت دیگر دونوں سخت گناہ گار ہو کر اخروی پکڑ کے مستحق ہوں گے،جبکہ عورت ایام عدت گز رنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما فی الدرالمختار: كرر لفظ الطلاق وقع الكل، وإن نوى التأكيد دين(کتاب الطلاق ج3 ص293 ط:سعید)۔
وفی الھندیۃ: وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة(الفصل الاول فی الطلاق الصریح ج1 ص355 ط:ماجدیہ)۔
وفی الھدایۃ: وان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ،أوثنتین فی الأمۃ،لم تحل لہ حتی تنکح زوجاًغیرہ نکاحاًصحیحاً،ویدخل بھا،ثم یطلقھاأیموت عنھا الخ(ج2صـ92 کتاب الطلاق ط: انعامیۃ)۔
و فی البحر الرائق :وينكح مبانته في العدة وبعدها )( لا المبانة بالثلاث لو حرة وبالثنتين لو أمة حتى يطأها غيره ولو مراهقا بنكاح صحيح وتمضي عدته لا بملك يمين ) أي لا ينكح مبانته بالبينونة الغليظة(کتاب الطلاق ج4 ص61)۔