میرے والد نے کچھ ماہ پہلے دوسرانکاح کیا تھا، ان کی دوسری بیوی ان سے چھپ کر غیر محرم سے بات کرتی رہی ، کچھ دنوں پہلے ان کو معلوم ہوا کہ وہ ان کی غیر موجودگی میں یہ سب کر رہی ہے، ہم تعلیم کے سلسلے میں اور میرے والد نوکری کی وجہ سے گھر سے زیادہ تر باہر ہوتے ہیں ،ان کی شادی کو دو ماہ ہوئے ہیں، اور وہ مسلسل میرے والد کو دھوکہ میں رکھے ہوئے تھی، ان کا رویہ ہم سب کے ساتھ اچھا ہے، لیکن انکی اس دوسرے مرد کے ساتھ باتیں سننے کے بعد ان پر اعتبار کرنا مشکل ہے ، وہ میرے والد کی غیر موجودگی میں گھنٹوں باتیں کرتی رہی تھی ، اب وہ میرے والد سے معافی مانگ رہی ہے۔ (خدا بہتر جانتا ہے ، وہ دل سے مانگ رہی ہیں یا دوسری بار طلاق سے بچنے کے لیے) میرے والد کو کیا کرنا چاہیے ؟ ان کو معاف کر دینا چاہیے یا چھوڑ دینا چاہیے؟ ہم نہیں چاہتے ان کے حق میں زیادتی ہو۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃًدرست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور الزام تراشی سے کام نہ لیا گیا ہو اور واقعۃً مذکور خاتون کے غیر مرد کے ساتھ خفیہ تعلقات ہوں تو اس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گا ر ہوئی ہے ، اس پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ پر بصدق دل توبہ واستغفار کے ساتھ ساتھ شوہر سے بھی معافی مانگے اور آئندہ اس قسم کے ناجائز تعلقات سے مکمل اجتناب کرے ، چنانچہ اگر مذکور خاتون کو اپنی غلطی کا احساس ہو چکا ہو اور سائلہ کے والد کو اس کی توبہ پر اعتماد بھی ہو تو اس کو ایک موقع دیتے ہوئے معاف کردینا چاہیے ، تاہم اگر اس کے باوجود وہ اپنی اس غلط حرکت سے باز نہ آئے، تو ایسی صورت میں سائلہ کا والد اسے ایک طلاق دیکر اپنی زوجیت سے الگ بھی کرسکتا ہے، اور ایسی صورت میں سائلہ کا والد گناہ گار بھی نہ ہوگا۔
کمافی الاحکام القرآن للجصاص: ولهن مثل الذي عليهن بالمعروف وللرجال عليهن درجة والله عزيز حكيم: قال أبو بكر رحمه الله أخبر الله تعالى في هذه الآية أن لكل واحد من الزوجين على صاحبه حقا(الاقولہ) واللاتی تخافون نشوزھن فعظوھن واھجروھن فی المضاجع واضربوھن، فان اطعنکم فلاتبتغوا علیھن سبیلاً، یدل علیٰ ان علیھا طاعتہ فی نفسھا وترک النشوز علیہ الخ(باب حقوق الزوج علیٰ المراۃ وحقوق المراۃ علیٰ الزوج اھ (ج1/ص/374ط: سہیل اکیڈمی)۔
وفی رد المحتار: تحت (قوله لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة) ولا عليها تسريح الفاجر إلا إذا خافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس أن يتفرقا اهـ مجتبى والفجور يعم الزنا وغيره وقد «قال صلى الله عليه وسلم لمن زوجته لا ترد يد لامس وقد قال إني أحبها: استمتع بها» اھ (ج6، ص 427، ط: سعید)۔