السلام علیکم!
میرے والدین نے میرا نکاح ایک نشئ سے زبر دستی کردیا ہے، اسکے نشہ کا سب کو رخصتی کے بعد معلوم ہوا، اب میں طلاق لینا چاہتی ہوں، لیکن میرے والدین نہیں مان رہے، اور مجھ سے اور صبر نہیں ہوتا، وہ بہت بد اخلاق ہے، اور اب میں اپنے والد کو کال کرکے یہ کہنا چاہتی ہوں کہ وہ مجھے بلالیں یا میں کہیں چلی جاؤنگی، تو کیا ایسا کرنا مناسب ہے؟ میں اپنی خالہ کے یہاں جاکر چند سال چھپ جاؤنگی، میں ایسے شخص کے ساتھ نہیں رہ سکتی جو نشہ اور بہت سی واہیات چیزیں کرتا ہے، کیا ایسے بھاگ جانا درست ہے؟
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو، اور سائلہ کا اپنے شوہر کے ساتھ نشہ اور دیگر نامناسب امور میں ملوث ہونے کی وجہ سے زندگی بسر کرنا مشکل ہورہا ہو، تو فوری طور پر علیحدگی یا خلع لینے یا گھر سے بھاگنے کے بجائے سائلہ کو چاہیئے کہ وہ اپنے شوہر کو نرمی سے سمجھائے، اور جہاں تک ہوسکے اپنا گھر بسانے کی کوشش کرے، نیز خاندان کے بااثر افراد کے سامنے بھی یہ مسئلہ رکھے، تاکہ اس کا بہتر حل سوچا جاسکے، لیکن اگر تمام تر کوششوں کے باوجود سائلہ کا شوہر اپنی عادات سے باز نہ آئے، اور حدود اللہ پر قائم رہتے ہوئے اس رشتہ کو برقرار رکھنا مشکل ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں سائلہ کو چاہیئے کہ وہ اپنے شوہرکو طلاق بالمال یا خلع پر آمادہ کرکے اس سے خلاصی حاصل کرے، لیکن شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں، لہذا یکطرفہ عدالتی کاروائی سے اجتناب کیاجائے۔
کما قال اللہ تعالٰی: فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (229)سورۃ البقرۃ)۔
وفی صحیح البخاری: حدثنا إسماعيل، قال: حدثني مالك، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن أبيه، عن عبد الرحمن، ومجمع، ابني يزيد بن جارية، عن خنساء بنت خذام الأنصارية، أن أباها زوجها وهي ثيب فكرهت ذلك، فأتت رسول الله صلى الله عليه وسلم «فرد نكاحه» (ج7 صـ18 کتاب النکاح باب إذا زوج ابنته وهي كارهة فنكاحه مردود ط: دار طوق النجاۃ)۔
وفی الدر المختار: (ولا بأس به عند الحاجة) للشقاق بعدم الوفاق (بما يصلح للمهر) بغير عكس كلي لصحة الخلع بدون العشرة وبما في يدها وبطن غنمها وجوز العيني انعكاسها.الخ (ج3 صـ441 باب الخلع ط: سعید)۔
وفی رد المحتار: وأما في جانبها فإنه معاوضة المال لأنه تمليك المال بعوض فيراعى فيه أحكام معاوضة المال كالبيع ونحوه كما في البدائع الخ (ج3 صـ443 باب الخلع ط: سعید)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول بخلاف النوع الأول فإنه إذا قال: خالعتك ولم يذكر العوض ونوى الطلاق فإنه يقع الطلاق عليها، سواء قبلت أو لم تقبل؛ لأن ذلك طلاق بغير عوض فلا يفتقر إلى القبول وحضرة السلطان ليست بشرط لجواز الخلع عند عامة العلماء فيجوز عند غير السلطان وروي عن الحسن وابن سيرين أنه لا يجوز إلا عند السلطان، والصحيح قول العامة لما روي أن عمر وعثمان وعبد الله بن عمر - رضي الله عنهم - جوزوا الخلع بدون السلطان، ولأن النكاح جائز عند غير السلطان فكذا الخلع الخ (ج3 صـ145 کتاب الطلاق ط: دار الکتب العلمیۃ)۔