میرا نام اقرأ ہے ، میرے تین بچے ہیں، میرے شوہر کا انتقال نومبر 2021 میں ہوا تھا ،میرا دوسرا نکاح پانچ مہینے پہلے ہوا تھا جو میرے دوسرے شوہر تھے وہ دبئی میں رہتے ہیں، ہمارا آنلائن نکاح ہوا تھا، ہم نے کبھی ایک دوسرے کو آمنے سامنے نہیں دیکھا بس فون پر ہی بات ہوئی تھی نکاح کے بعد جن شرا ئط پر نکاح ہوا تھا و ہ ان سے پیچھے ہٹ گئے و ہ صرف مجھے دبئی بُلوانا چاہتے تھے بچوں کو نہیں اور بھی انکی بہت ساری با تیں ایسی تھی جو ماننا ممکن نہیں تھا یعنی بس ہر وقت مجھ سے تصویر مانگتے رہتے اور و ہ بھی بغیر کپڑوں کے , میں نے یہ سب باتیں گھر میں بھی کسی کو نہیں بتائی تھی، لیکن امی ابو بھی بہت کچھ سمجھ گئے تھے ، و ہ مجھے ہر وقت ذہنی اذیت دیے رکھتا میں بہت پریشان ہو گئی تھی، اور پھر امی ابو نے مجھے اس سے خلع لینے کے لئے کہا اور وہ مجھے دھمکانے لگا اس نے امی ابو کو بھی کہہ دیا تھا کہ آپکی بیٹی کو بہت بدنام کرونگا اور اس نے مجھے میری ہی تصویر کو ایڈٹ کر کے بھیجا، جس پرمجھے بہت غصہ آیا اور جب میں نے اس کو فون کیا تو اسنے غصے میں آ کر مجھے کہا کے اقرا "میں نے تمہیں طلاق دی "طلاق دینے کے فوراً بعد اسنے مجھے کہا کے اقرأ میں نے تم سے رجوع کیا اس نے کہا کہ میں نے اپنی پہلی بیوی کو بھی اِسی طرح الگ الگ طلاق دی تھی اور رجوع بھی کیا تھا یہ اس کی مجھ سے تیسری شادی تھی ،میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس کے ایک طلاق دینے سے مجھے طلاق ہو گئی ؟ یعنی ہمارا نکاح ٹوٹ گیا ؟ یا اسنے جو رجوع کا کہا تھا رجوع ہوا ؟ ہماری رخصتی نہیں ہوئی تھی اور نا ہی ہم کبھی ملے ہیں تو ایسے میں کیا عدت ہوگی ؟ اور اگر نکاح ختم ہو گیا ہے تو کیا مجھے خلع لینا ضروری ہے ؟ براہِ مہر بانی میری رہنما ئی کریں،یہ بہت نازک معاملہ ہے۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ سائلہ کے شو ہر نے نکاح کے بعد رخصتی اور خلوتِ صحیحہ ہونے سے قبل سائلہ کو فون پر مذکورالفاظ "میں نے تمہیں طلاق دی"کہہ دیے ہوں تو اس سے سائلہ پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوکر میاں بیوی کے درمیان نکاح ختم ہوچکا تھا،جس کے بعد شوہر کو رجوع کا اختیار نہ تھا،لہذا اس کے رجوع کرنے کے باوجود شرعاً یہ رجوع نہیں ہوا، بلکہ سائلہ بغیر عدت گزارے اور خلع لیے اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے ۔
کما فی الھندیۃ: إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة وذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق وكذا إذا قال أنت طالق واحدة وواحدة وقعت واحدة كذا في الهدايةالخ (فصل فی الطلاق قبل الدخول، ج 1، ص 373، ط: ماجدیہ) ۔
وفیہ ایضاً: أربع من النساء لا عدة عليهن: المطلقة قبل الدخول الخ(فصل فی العدۃ،ج1،ص526،ط:ماجدیہ)۔