السلام عليکم!
جی ایک شخص جس کا نام عبدالمجيد رند ہے اس نے دوسری بیوی کو ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دیں، واٹس اپ پر بھی طلاق دی،موقع پر اس شخص کا داماد،بیٹا ،سالا اور گھر والے سب موجود تھے،وہ خاتون حقِ مہر اور کچھ سامان لے کر چلی گئی گھر سے ,اب ایک دو ہفتے کے بعد پھر اس خاتو ن کو گھر واپس لے کر آ گیا ہے تو کیا یہ نکاح باقی رہا ہے؟ اور اس نکاح سے ہونے والی اولاد جائز اور وارث ہو سکتی ہے؟
سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو, اس میں کسی طرح غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ مذکور شخص مسمٰی "عبد المجید رند"نے اپنی دوسری بیوی کو "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"تین دفعہ کہہ دیے یا بذریعہ واٹس ایپ اسے بھیج دیے ہوں تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما فی احکام القرآن للجصاص : قال أبو بكر: قوله تعالى : (الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان) الآية، تدل على وقوع الثلاث معا مع كونه منهيا عنها اھ (ج1،صـــ386)۔
و فیہ ایضاً : فالكتاب والسنة وإجماع السلف توجب إيقاع الثلاث معا و إن كانت معصية اھ (ج1،صـــ387)۔
و فی الشامیۃ : و ذهب جمهور الصحابة و التابعين و من بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث اھ (ج3،صـــ233)۔
و فی الفتاوی الھندیۃ : و إذا قال لامرأتہ أنت طالق و طالق و طالق و لم یعلقہ بالشرط إن کانت مدخولۃ طلقت ثلاثاً اھ (ج1،صـــ355)۔
و فیھا ایضاً : رجل قال لامرأتہ أنت طالق أنت طالق أنت طالق فقال : عنیت بالاولی الطلاق و بالثانیۃ و الثالثۃ افھامھا صدق دیانۃ و فی القضاء طلقت ثلاثاً کذا فی فتاوی قاضیخان اھ (ج1،صـــ356)۔