میرا سوال ہے کہ ایک میاں بیوی کی شادی کو آٹھ سال ہو چکے ہیں،اور ان کی تین بیٹیاں ہیں ، جن میں سب سے چھوٹی بیٹی ابھی چھ ماہ کی ہے، کچھ ۵ سال قبل آپسی مسائل کی وجہ سے میاں نے بیوی کو کہا کہ "میں تمہیں فارغ کر دوں گا" اور اسے پہلی طلاق سمجھ کے کفارہ ادا کیا، کچھ عرصے بعد دُوسری طلاق بھی ایسے ہی ہوئی، کہ" میں تمہیں فارغ کر دوں گا"، اس میں میاں بیوی کا اختلاف ہے کہ طلاق ہوئی تھی یا نہیں ہوئی تھی، کیوں کہ شوہر نے کہا کہ تم چپ کر جاؤ، ورنہ میری طرف سے فارغ ہو، اس میں بیوی کہتی ہے کہ میں چپ ہو گئی تھی، اب کچھ دنوں پہلے میاں بیوی کے آپسی مسائل چل رہے تھے، بیوی اپنے میکے گئی تھی اور شوہر سے بحث میں کہا کہ مجھے فارغ کر دیں، شوہر نے کہا کہ گھر واپس آؤ، تین دن کا وقت ہے، ورنہ فارغ ہو، اس پر بیوی نے بتایا کہ چھوٹی بیٹی بیمار ہے،اس پر شوہر نے کہا کہ پہلے کیوں نہیں بتایا،اب میں بول چکا ہوں، کیا ایسے میں طلاق ہو جاتی ہے؟ میاں بیوی اکٹھے رہنا چاہتے ہیں، لیکن مسائل نہیں سمجھ پا رہے۔
نوٹ:بیوی میکے سے تین دن کے اند رنہیں آئی ۔
واضح رہے کہ طلاق وغیرہ کے وقوع کے لئے ماضی یا حال کا صیغہ ہونا ضروری ہے ، مستقبل کے صیغے سے طلاق واقع نہیں ہوتی،لہذا صورت مسئولہ میں شخص مذکور نےجب آپس کی ناچاقی کی وجہ سےبیوی کو دومرتبہ مذکور الفاظ (میں تمہیں فارغ کردوں گا) استعمال کئے ،توان سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ، اس لئے کہ یہ دھمکی طلاق ہے،البتہ شوہر نے جب تیسری دفعہ اپنی بیوی کو مذکور الفاظ"گھر واپس آؤ، تین دن کا وقت ہے ،ورنہ فارغ ہو " کہہ دئیے،تو اس سے بیوی پر ایک طلاق بائن معلق ہو چکی تھی ، چنانچہ اس تعلیق کے بعد اگر بیوی اپنے میکے سے تین دن کے اندر نہیں آئی تو اس پر ایک طلاق بائن واقع ہوکر نکاح ختم ہو چکاہے ، اب شخص مذکور کے لئے تجدید نکاح کے بغیربیوی کے ساتھ رہنا شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے اور بیوی عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کر نے میں بھی آزاد ہے ، تاہم میاں بیوی اگر باہمی رضامندی سے ایک ساتھ رہنا چاہیں تو باقاعدہ شرعی گواہان کی موجود گی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب وقبول کرنے کے بعد ساتھ رہ سکتے ہیں ، البتہ آئندہ کے لئے شوہر کے پاس فقط دو/2 طلاقوں کا اختیار ہو گا ، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔