شوہر نے بیوی سے کہا کہ اگر میری بہنوں کو گھر کی باتوں کے بارے میں پتا چلا تو تم مجھ پر حرام ہو۔اب شوہر کہتا ہے کہ میری نیت صرف بہن نہیں تھی ماں بھی تھی ۔اگر وہ باتیں کہیں اور سے پتا چلتی ہیں بیوی کی طرف سے نہیں چلتاتو اس صورت میں کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ مذکور الفاظ"تم مجھ پر حرام ہو" عرف میں طلاق دینے کے لئے استعمال ہوتے ہیں،اور یہ الفاظِ طلاق صریحِ بائن کے ہیں، جس سے بغیر نیت کے بھی طلاقِ بائن واقع ہو جاتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگرشوہر نےمذکور الفاظ "اگر میری بہنوں کو گھر کی باتوں کے بارے میں پتا چلا تو تم مجھ پر حرام ہو "کے ساتھ طلاق کو معلق کیا ہو تو اس سے ایک طلاقِ بائن معلق ہوگئی ہے ،اب اگر شوہر کی بہنوں کو گھر کی باتوں کا علم بیوی کے بتانے کی وجہ سے ہو جائے تو ایسی صورت میں شرط کے پائے جانے کی وجہ سے سائل کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوجائے گی ، لیکن اگر سائل کی بہنوں کو گھر کی باتوں کا علم بیوی کےبجائے کسی اورزریعہ سے ہوا ، تو ایسی صورت میں شرط نہ پائے جانے کی وجہ سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہو گی،جبکہ قسم اٹھانے والااپنے کلام سے اگردل میں کوئی مخصوص نیت کرتا ہے،جس کا عرفی اعتبار سےبولے گئے الفاظ میں احتمال نہ ہو تو ایسی صورت میں اس کے الفاظ ہی معتبر ہوتےہیں ، الفاظ کی دلالت سے خارج جس معنی کی اس نے نیت کی ہو،اس کا اعتبار نہیں کیاجاتا، البتہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بولے گئے الفاظ عرف میں متروک (جن پر عمل چھوڑ دیا گیا ہو) ہوچکے ہوتےہیں تواس صورت میں متکلم کی معنوی غرض (جس غرض اور مقصدکی اس نے نیت کی تھی) کومعتبرمان لیاجاتاہےاورحکم متکلم کی غرض اور کلام کے مفہوم پرلگتاہے،چونکہ سائل کی بیان کردہ صورت میں عرف میں" بہن "کے الفاظ بول کر"ماں "مرادنہیں لی جاتی، اس لیے سائل کااس لفظ سے "ماں "سے بات کرنے کوبھی قسم میں داخل کرنامعتبرنہ ہوگا۔اوراگرشوہرکی ماں کوبیوی سے ان باتوں کاعلم ہوگیاتو وہ حانث نہیں ہوگا،اوراس کی بیوی پراس کی وجہ سے کوئی طلاق بھی واقع نہ ہوگی الا یہ کہ شوہر دوبارہ قسم کھا کر ماں کوبھی قسم میں شامل کرلے تووہ شامل ہوگی ،ورنہ نہیں ۔
کما فی الفتاوى الهندية: ألفاظ الشرط إن و إذا وإذما و كل و كلما و متى و متى ما ففي هذه الألفاظ إذا وجد الشرط انحلت اليمين و انتهت لأنها تقتضي العموم و التكرار فبوجود الفعل مرة تم الشرط و انحلت اليمين،( الباب الرابع في الطلاق بالشرط و نحوه، الفصل الأول في ألفاظ الشرط،ج:1، ص: 415)
و فی شامیہ:(قوله الأيمان مبنية على الألفاظ إلخ) أي الألفاظ العرفية بقرينة ما قبله واحترز به عن القول ببنائها على عرف اللغة أو عرف القرآن ففي حلفه لا يركب دابة ولا يجلس على وتد، لا يحنث بركوبه إنسانا وجلوسه على جبل وإن كان الأول في عرف اللغة دابة، والثاني في القرآن وتدا كما سيأتي وقوله: لا على الأغراض أي المقاصد والنيات، احترز به عن القول ببنائها على النية. …. (الی قولہ) فإذا أطلق ينصرف إلى المتعارف، بخلاف الخارجة عن اللفظ كما لو قال لأجنبية إن دخلت الدار فأنت طالق، فإنه يلغو ولا تصح إرادة الملك أي إن دخلت وأنت في نكاحي وإن كان هو المتعارف لأن ذلك غير مذكور، ودلالة العرف لا تأثير لها في جعل غير الملفوظ ملفوظا.(باب اليمين في الدخول والخروج والسكنى والإتيان والركوب وغير ذلك، ج:3،ص:743)-