میں نے اپنی بیوی کو بولا "اگر آپ اس گھر سے جاؤ گی تو فائنل ہو کر جاؤ گی" اور غصے میں لڑائی کے دوران میں بولا تھا کہ میں آپ کو فیصلہ دے دوں گا ، لیکن تین بار آواز کے ساتھ الفاظ نہیں بولا ، دل میں بھی ارادہ کیا کہ میں اپنے بیوی کو فیصلہ دے دوں گا اور کل میں نے طلاق کے پیپر بھی بنوا لیے، لیکن آج جب میری بیوی کے گھر والے آئے تو بات کرنے کے بعد میں نے طلاق کے پیپر پر نہ دستخط کیے نہ با آواز الفاظ ادا کیے، کیا ہمارے بیچ میں علیحدگی ہو گئی ہے؟ براہ مہربانی فتوی ٰعنایت فرمائیں۔
سائل نے غصے کی حالت میں اپنی بیوی کو جو الفاظ کہے " اگر آپ اس گھر سے جاؤ گی تو فائنل ہو کے جاؤ گی" اس سے سائل کے نکاح پر کوئی اثر نہیں ہوا، اسی طرح " میں آپ کو فیصلہ دے دوں گا" کے الفاظ سے بھی سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، تاہم اس کے بعد سائل نے طلاق کے جو پیپر بنوائے وہ سوال کے ساتھ منسلک نہیں ، اس لئے انہیں دیکھے بغیر کوئی حکم نہیں لگایا جاسکتا۔
کمافی عقود الدریۃ فی تنقیح الحامدیۃ: صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام الخ (کتاب الطلاق، ج1 ص 38، ط: دار المعرفہ)۔
وفی الہندیۃـ: فقال الزوج طلاق ميكنم طلاق ميكنم وكرر ثلاثا طلقت ثلاثا بخلاف قوله كنم لأنه استقبال فلم يكن تحقيقا بالتشكيك. في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقا الخ ( الفصل السابع في الطلاق بالألفاظ الفارسية ، ج1، ص 384، ط: ماجدیۃ)۔