سسر کے بہو کو شہوت سے چومنے اور ہاتھ لگانے سے کیا بیٹے اوربہو کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟
اگر سسر اپنی بہو سے شہوت کے ساتھ بوس و کنار کر لے یا اسے بلاحائل شہوت سےچھو لے ،یا حائل تو ہو مگر اس کے ہاتھ لگانے اور چھونے سے ان دونوں کو یا ان میں سے کسی ایک کو دوسرے کے جسم کی حرارت محسوس ہونے لگے، اور سسر اپنے اس فعل قبیح کا اقرار کر لے یا شوہر عورت کی تصدیق کر لے، تو اس سے ان سسر بہو کے درمیان حرمت مصاہرت ثابت ہو کر میاں بیوی ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے پر حرام ہو جائیں گے، اور ان دونوں پر دوسرے سےعلیحدگی اختیار کرنا لازم ہوگا، جبکہ ایسی صورت میں شوہر کو چاہیئے کہ وہ بیوی کو الفاظ متارکت جیسے "میں تمہیں چھوڑتا ہوں "وغیرہ کہہ کر اسے اپنے عقد سے آزاد کر دے،تاکہ وہ ایام عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزادہو۔
کما فی الدر المختار: (و) أصل (ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لا يمنع الحرارة وأصل ماسته وناظرة إلى ذكره والمنظور إلى فرجها) المدور (الداخل) ولو نظره من زجاج أو ماء هي فيه (وفروعهن) مطلقا والعبرة للشهوة عند المس والنظر لا بعدهما وحدها فيهما تحرك آلته أو زيادته به يفتى الخ ( كتاب النكاح، ج 3، ص 32-33 ، ط : سعيد)۔
وفی الھندیۃ: و وجود الشهوة من أحدهما يكفي وشرطه أن لا ينزل حتى لو أنزل عند المس أو النظر لم تثبت به حرمة المصاهرة، كذا في التبيين اھ (القسم الثاني المحرمات بالصهرية،ج1،ص275،ط:ماجدیہ)۔