محترم مفتیانِ کرام! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میں آپ حضرات کی خدمت میں ایک اہم مسئلہ پیش کرنا چاہتا ہوں، جو میری ازدواجی زندگی سے متعلق ہے، اور شرعی رہنمائی کا طلبگار ہوں، میں نے اپنی بیوی کو پہلی طلاق 31 اگست 2022 کو دی تھی، جو کہ میں نے صرف لکھ کر ایک پیپر کی صورت میں اپنی بیوی کے والد کو واٹس ایپ کے ذریعے بھیجی، اس کے بعد میں نے تین ماہ سے زیادہ انتظار کیا، تا کہ نکاح ختم ہو جائے، پھر میں نے23 دسمبر 2022 کو باقی دو طلاقوں کے پیپرز، اور پہلا پیپر دو بارہ واٹس ایپ پر اپنی بیوی کے والد کو بھیجا، اس کے ساتھ ہی قانونی کارروائی کو مکمل کرنے کے لیے تینوں پیپرز یونین کونسل کو بھی 23 دسمبر کو ارسال کیے، اس تمام معاملے میں میں نے زبانی طور پر کوئی طلاق نہیں دی، صرف لکھ کر پیپرز بھیجے تھے، جن کی تفصیل میں نے اوپر بیان کی ہے، اگراب میں دو بارہ اپنی سابقہ بیوی سے نکاح کرنا چاہوں، تو براہ کرم شرعی رہنمائی فراہم کریں 1۔. کیا میری تینوں طلاقیں مؤثر ہو چکی ہیں؟ 2. اگر مؤثر ہو چکی ہیں تو کیا ہم دو بارہ نکاح کر سکتے ہیں؟ 3. اگر نکاح ممکن نہیں ہے تو شرعی حل کیا ہوگا؟ 4. کیا اس صورتحال میں حلالہ کی ضرورت ہے؟ آپ کے جواب کا منتظر رہوں گا۔ جزاکم اللہ خیرا والسلام
(نوٹ) سائل نے اگست میں تمام طلاق نامے تیار کرلئے تھے، پہلے طلاق نامہ پر دستخط 31 اگست کو کیا، جبکہ باقی دو طلاق ناموں پر 23 دسمبر کو دستخط کئے تھے، طلاق نامے سوال کے ساتھ منسلک ہیں۔
سائل کے بیان کے مطابق جب سائل نے 31 اگست 2022 کو تین طلاقوں پر مشتمل طلاق کے تین نوٹس بنوائے تو ایسی صورت میں اگر چہ سائل نے طلاق کے پہلے نوٹس پر 31 اگست 2022 کو دستخط کرکے اور بقیہ طلاق کے نوٹس 23 دسمبر 2023 کو بیوی کے والد کو ارسال کئے تھے، تب بھی فقط تین طلاقوں پر مشتمل طلاق کے نوٹس بنوانے سے 31 اگست 2022 کو ہی سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فورا ایک دوسرے سے علیحد گی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے۔
اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایّام عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرےمسلمان سے اپنا عقد نکاح کرے ، چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری ( جو کہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے ، مگر شوہر کا پہلے انتقال ہو جائے ، بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقد نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا ، تاکہ وہ زوج اول کے لئے دوبارہ حلال ہوجائے ، مکروہ تحریمی ہے اور اس پر احادیثِ مبارکہ میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہذا اس سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
وفی الہندیہ:و إن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نکاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية الخ(473/1) ۔
وفی رد المحتار:ولو قال للكاتب: اكتب طلاق امرأتي كان إقرارا بالطلاق وإن لم يكتب؛ ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابة أو قال للرجل: ابعث به إليها، أو قال له: اكتب نسخة وابعث بها إليها، وإن لم يقر أنه كتابه ولم تقم بينة لكنه وصف الأمر على وجهه لا تطلق قضاء ولا ديانة، وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه اهـ (246/3)