میں نے اپنی بیوی کو غصے میں غیر ارادی طور پر 3 طلاقیں ایک ہی بار فون پر دے دیں، جبکہ میری بچی ڈھائی ماہ کی ہے، میں اس کی خاطر ساتھ رہنا چاہتا ہوں، تو کیا میری طلاق واقع ہو چکی ہے کہ نہیں؟ کیا ابھی کوئی گنجائش ہے رجوع کی؟ طلاق آج ہی دی ہے عصر کے ٹائم فون کال پر۔
(نوٹ) الفاظ طلاق یہ تھے" طلاق، طلاق، طلاق"
سائل نے لڑائی جھگڑے اور غصہ کی حالت میں اپنی بیوی کو جب مذکور الفاظ" طلاق، طلاق، طلاق " کہہ دیئے ،تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی مسلمان سے اپنا عقدِ نکاح کرے، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے، مگر اس کا پہلے انتقال ہو جائے ، تو بہرصورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقدِ نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا، تاکہ زوجِ اول کے لئے عورت دوبارہ حلال ہوجائے، مکروہِ تحریمی ہے، اور احادیثِ مبارکہ میں اس پر وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہذا اس سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے ۔
کما في الصحيح للبخاري: عن عائشة رضى الله عنها جائت امرأة رفاعة القرظى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقنى فأبت، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير فإنما معه مثل هدبة الثوب، فقال أتريدين أن ترجعی إلى رفاعة ؟ لا، حتى تذوقى عسيلته ويذوق عسيلتك اھ (ج ٢ ص ١٢٤٣ ، باب شهادۃ المختبی، ط: البشرى)۔
وفي الهندية : إذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط ان كانت مدخولة طلقت ثلاثا وان كانت غير مد خولة طلقت واحدة الخ (ج1،ص 355، ط:ماجدیۃ)۔
وفي الهداية : وإن كان الطلاق ثلاثا فى الحرة ،أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحاً صحيحاً ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها الخ (ج۲ ص ۹۲ ط: انعامية)۔
وفی رد المحتار: ویقع الطلاق من غضب خلافاً لابن القیم اھ وھذا الموافق عندنا لما مر فی المدھوش الخ (ج3، ص244، ط:سعید)۔