مسافر امام کب اعلان کرے کہ میں مسافر ہوں تم اپنی نماز پوری کرو؟ اگر دو رکعت پر نماز کے بعد؟ تو مقتدیوں کا غیر سے تعلیم حاصل کرنا (جس سے نماز فاسد ہوتی ہے) لازم آتا ہے دلائل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں جزاک اللّہ خیرا
مسافر امام کا اپنی نماز پوری کرنے کے بعد اپنےمسافر ہونے کا اعلان چونکہ متعدد احادیث مبارکہ اور آپ ﷺ کے فعل مبارک سے ثابت ہے، اور جو چیزیں نصوص سے براہ راست ثابت ہوتی ہیں، وہ فقہی قواعد کے تابع نہیں ہوتی، اگرچہ نماز سے پہلے بھی اعلان کیا جاسکتا ہے، لہذا مسافر امام اگر نماز پوری کرنے کے بعد اپنے مسافر ہونے کا اعلا ن کرتاہے ، تو اس کی وجہ سے مقتدیوں کی نماز کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
کما فی المشکاۃ: و عن عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ،قال غزوت مع النبی ﷺ و شھدت معہ الفتح فأقام بمکۃ ثمانی عشرۃ لیلۃً لا یصلی إلا رکعتین، یقول (یا اھل البلد صلّوا أربعاً فإنا سفر ) رواہ ابو داود
وفی المرقاۃ تحت قولہ (یا أھل البلد صلوا أربعاً) أی أتموا صلاتکم (فإنا) أی فإنی و أصحابی (سفر) بسکون الفاء جمع سافر کرکب و صحب أی مسافرون ومن اللطائف أن أبا حنیفۃ صلی بمکۃ إماماً و قال بعد السلام أتمو صلاتکم فإنی مسافر فقال بعض السفھاء نحن ھذہ المسئلۃ أحسن منکم، فضحک الإمام و قال لو عرفت لما تکلمت الخ ( الفصل الثانی باب صلاۃ السفر، ج: 3، ط: المکتبہ الحقانیۃ)۔
و فی الفتاوی التاتارخانیۃ: فإن أخبرھم قبل الشروع بأنی مسافر علی رأس الرکعتین فقام جازت صلاتھم و یتمون مابقی من صلاتھم الخ۔ (کتاب الصلاۃ، الفصل الثانی العشرون فی صلاۃ المسافر، ج: 2، ص:516، ط: رشیدیہ)۔