ایک ہی جگہ پر 3طلاق دینے کا کیا حکم ہے ؟
واضح ہو کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں خواہ ایک جملہ سے دی ہوں جیسے تجھے تین طلاق ہے یا علیحدہ علیحدہ جملوں سے دی ہوں، جیسے تمہیں طلاق دیتا ہوں، تمہیں طلاق دیتا ہوں، تمہیں طلاق دیتا ہوں، بہر صورت اس سے قرآن و سنت کی روشنی میں تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں، اس پر حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، تابعین عظام رحمہم اللہ کا اتفاق ہے، اور امت کے چاروں ائمہ امام اعظم ابو حنیفہ ، امام مالک، امام شافعی ، امام احمد بن حنبل رحمھم اللہ کا بھی یہی مسلک ہے۔ لہذا بیوی کو تین طلاق دینے کے بعد کسی اہل حدیث عالم سے فتویٰ لیکر بغیر حلالہ شرعیہ کے میاں بیوی کا ساتھ رہنا ناجائز اور حرام ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی احکام القرآن للجصاص : قال أبو بكر: قوله تعالى : ( الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان ) الآية ، يدل على وقوع الثلاث معا مع كونه منهيا عنها اھ ( ج 1 ، صـــ 386 ) ۔
و فیہا ایضاً : فالكتاب والسنة وإجماع السلف توجب إيقاع الثلاث معا و إن كانت معصية اھ ( ج 1 ، صـــ 387 ) ۔
و فی الشامیۃ : و ذهب جمهور الصحابة و التابعين و من بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث اھ (ج 3 ، صـــ 233 ) ۔
و فی الفتاوی الھندیۃ: و إذا قال لامرأتہ أنت طالق و طالق و طالق و لم یعلقہ بالشرط إن کانت مدخولۃ طلقت ثلاثاً اھ ( ج 1 ، صـــ 355 ) ۔