السلام علیکم جناب عالی! میری بیوی بہت بداخلاق ہے اور جب بھی میں نے اُن کی اصلاح کیلئے اُن پر غصہ کیا ، تو اُس نے مجھ سے طلاق کی ڈیمانڈ کی، اُن کی بد اخلاقی سے تنگ آکر اُن کی ڈیمانڈ پر میں نے 2019میں ایک طلاق دی، 20 دن گزرنے کے بعد اُن کے بزرگوں کے اسرار پر میں نے رجوع کرلیا ، لیکن اُس کے بعد بھی اس کا رویہ ویسے کا ویسا ہی رہا ، اب 2024 میں اُس نے مجھ سے پھر طلاق کی ڈیمانڈ کی، جس پر میں نے اُسے دوبارہ ایک دفعہ طلاق دی، جسے 15 دن ہوگئےہیں، اب دوبارہ اُس کے بزرگ رجوع کیلئے مجھے منا رہے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں اب رجوع کرسکتا ہوں؟
نوٹ! جب بھی میں نے اپنی بیوی کی اصلاح کی کوشش کی تو اُس نے مجھ سے طلاق کا مطالبہ کیا۔
سائل نے اگر پہلی طلاق صریح الفاظ میں دینے اور دورانِ عدت رجوع کرنے کے بعد دوسری طلاق بھی صریح الفاظ " جیسا کہ تمہیں طلاق ہے وغیرہ" کے ذریعہ دی ہو تو سائل دورانِ عدت رجوع کرسکتا ہے، تاہم آئندہ کے لئے سائل کے پاس فقط ایک طلاق کا اختیار ہوگا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔
کمافی الھدایة : و إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة و بعد انقضائھا؛ لأن حل المحلیة باق لأن زواله معلق بالطلقة الثالثة فینعدم قبله. (257/2)۔
و فی الھندیة : إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة و بعد انقضائها.( ج 1 ص 272)۔
وفیھا ایضاً: واذاطلق الرجل امراتہ تطلیقۃ رجعیۃ او تطلیقتین فلہ ان یراجعھا فی عدتھا رضیت بذلک او لم ترض کذا فی الھدایۃ الخ ( ج 1 صـ 470 کتاب الطلاق ط : ماجدیۃ ) ۔
وفیھا ایضاً : ( فالسنی ) ان یراجعھا بالقول و یشھد علی رجعتھا شاھدین و یعلمھا بذلک فاذا راجعھا بالقول نحو ان یقولھا : راجعتک او راجعت امراتی ولم یشھد علی ذلک او اشھد و لم یعلمھا بذلک فھو یدعی مخالف للسنۃ و الرجعۃ صحیحۃ و ان راجعھا بالفعل مثل ان یطاھا او یقبلھا بشھوۃ او ینظر الی فرجھا بشھوۃ فانہ یصیر مراجعا عندنا الا انہ یکرہ لہ ذلک و یستحب ان یراجعھا بعد ذلک بالاشھاد الخ ( ج 1 صـ 467 کتاب الطلاق الباب السادس فی الرجعۃ ط : ماجدیۃ )۔