کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے شوہر کو نو سال قبل رینجرز گرفتار کر کے لے گئی تھی، جس کے بعد آج تک ان کی رہائی، زندہ یا مردہ ہونے کی کوئی خبر نہیں ملی، اس سلسلہ میں ہم نے ایف آئی آر کٹوائی اور کورٹ میں پٹیشن بھی لکھوائی، لیکن اب تک کوئی جواب نہیں ملا، میرے دو بچے ہیں ، اب ان کو پالنا بھی مشکل ہورہا ہے، اب میں دوسری شادی کرنا چاہتی ہوں، شرعاً مجھے آگے شادی کرنے کی اجازت ہے یا نہیں؟
سائلہ کا شوہر اگر اس طرح لاپتہ اور مفقود نہ ہو کہ جس کی موت و حیات کا کوئی علم نہ ہو، بلکہ وہ کسی ادارے کی تحویل اور قید میں ہو تو ایسی صورت میں سائلہ پر لازم ہے کہ شوہر کی رہائی اور آنے کا انتظار کرے اور عفت و پاکدامنی کے ساتھ اپنا وقت گزارے، البتہ اگر نان و نفقہ کی مجبوری ہو یا عفت کے ساتھ وقت گزارنا مشکل ہو تو ایسی صورت میں سائلہ کو چاہیئے کہ کسی طرح ( اگرچہ عدالت کے توسط سے ہو) اپنے شوہر سے رابطہ کر کے اس سے طلاق یا خلع کے ذریعہ علیحدگی حاصل کرے، چنانچہ طلاق یا خلع ہوجانے کی صورت میں عدت گزار کر سائلہ کے لئے کسی دوسری جگہ نکاح کرنا جائز اور درست ہوگا۔
کما فی فتح القدیر: وتکون الفرقۃ تطلیقۃ بائنۃ عند ابی حنیفۃ ومحمدؒ لأن فعل القاضی انتسب الیہ کما فی العنین۔ اھـ (ج٤، ص١١٩)۔
وفی الدّر المختار : انّہ انما یحکم بموتہ بقضاء لانّہ امرٌ محتمل فما لم ینضمّ الیہ القضاء لا یکون حجّۃ اھـ (ج٤، ص٢٩٧)۔
وفی الھدایۃ: ولا یفرق بینہ وبین امرأتہ وقال مالکؒ اذا مضی اربع سنین یفرق القاضی بینہ وبین امرأتہ وتعتدّ عدّۃ الوفاة ثمّ تزوّج من شاءت لأنّ عمرؓ ھکذا قضٰی۔ اھـ (ج٢، ص٦٢٢)۔
وفی الرّد المحتار: ھٰذا ای ما روی عن ابی حنفیۃ رحمہ اللہ من تفویض موتہ الٰی رای القاضی نصّ علی انّہ انّما یحکم بموتہ بقضاء۔ اھـ (ج٤، ص٢٩٧)۔
وفی الدّر المختار: (ولا یفرق بینھما بعجزہ عنھا) بانواعھا الثلاثۃ (ولا بعدم ایفائہ) او غائبًا (حقھا وھو موسرٌ) وفی الردّ: (قولہ بانواعھا) وھی ماکول وملبوس ومسکن۔ اھـ (ج٣، ص٥٩٠)۔