السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میں رئیس احمد ولد عبدالعزیز حلفیہ اقرار کرتا ہوں کہ دس سال قبل میرے گھر والوں اور بیوی کے درمیان گھریلو معاملات کی بناء پر جھگڑا ہوا ،تو میں نے طلاق کی نیت سے اپنی بیوی کو اس کے گھر والوں کے ساتھ یہ بول کر بھیج دیا کہ "میں اسے فارغ کرتا ہوں، بلکہ فارغ کر دیا ہے" لیکن زبان سے طلاق کا لفظ استعمال نہیں کیا ، پھر میں نے بازار سے طلاق نامہ بنوایا ، جس میں تین بار طلاق کا ذکر کیا گیا تھا، لیکن یہ طلاق نامہ میری بیوی تک پہنچنے سے پہلے میری بیٹی نے پھاڑ دیا ، دس سال کا عرصہ گزرنے کے بعد ہم رجوع کرنا چاہتے ہیں، اس سلسلہ میں آپ سے درخواست کی جاتی ہے کہ شرعی طور پر ہماری رہنمائی فرمادیجئے کہ آیا کہ ہماری طلاق ہو چکی ہے یا نہیں؟ اگر طلاق ہو چکی ہے تو رجوع اور نکاح کی گنجائش ہے؟ نوٹ! لڑائی جھگڑے کے دوران میں نے اپنی بیوی کو جو الفاظ کہے تھے کہ "میں اسے فارغ کرتا ہوں، بلکہ فارغ کر دیا ہے"اس کے اگلے دن ہی میں نے طلاق نامہ بنوایا تھا، جس میں تین دفعہ یہ الفاظ درج تھے "میں رئیس احمد ولد عبدالعزیز اپنی بیوی سروری بیگم بنت عبدالرزاق کو طلاق دیتا ہوں" مجھے طلاق نامہ پڑھوایا گیا اور پھر میں نے اس پر دستخط کیے۔
صورتِ مسئولہ میں سائل نے جب بیوی کے متعلق بہ نیتِ طلاق مذکور الفاظ " میں اسے فارغ کرتا ہوں بلکہ فارغ کر دیا ہے"کہہ دیے تھے، تو ا س سے سائل کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوچکی تھی اور اگلے دن بھی جب سائل نے تین طلاقوں پر مشتمل طلاق نامہ بنوا کر اس پر دستخط کردیے ، اگرچہ سائل کی بیٹی نے وہ طلاق نامہ پھاڑدیا تھا، تب بھی بقیہ دو طلاقیں واقع ہو کر مجموعی طور سے تین طلاقوں کے ذریعہ حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے اور چوتھی طلاق محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوگئی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ،لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار رکھیں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہگار ہوں گے، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایّامِ عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرےمسلمان سے اپنا عقد نکاح کرے ، چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری ( جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے ، مگر شوہر کا پہلے انتقال ہو جائے ، بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقد نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا ، تاکہ وہ زوجِ اول کے لئے دوبارہ حلال ہوجائے ، مکروہِ تحریمی ہے اور اس پر احادیثِ مبارکہ میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، لہذا اس سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے ۔
قال اللہ تعالی: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ اھ (سورۃ البقرۃ:230)۔
کما فی الھندیۃ: وإذا قال لإمرأتہ أنت طالق و طالق و طالق و لم یعلقہ بالشرط إن کانت مدخولۃ طلقت ثلاثاً و إن کانت غیر مدخولۃ طلقت واحدۃ و کذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق الخ ( الباب الثانی فی ایقاع الطلاق ج 1 ص 355 ط: ماجدیہ)۔
و فیھا ایضاً: وإن کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ و ثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا الخ (فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ج 1 ص 273 ط: ماجدیہ) ۔
و فی الھندیۃ: وإن کانت مرسومۃ یقع الطلاق نوی أو لم ینو الخ
و فیہ ایضاً: رجل استکتب من رجل الی إمرأتہ کتاباً بطلاقھا و قرأہ علی الزوج فأخذہ و طواہ و ختم و کتب فی عنوانہ و بعث بہ الی إمرأتہ فأتاھا الکتاب و أقر الزوج أنہ کتابہ فان الطلاق یقع علیھا الخ ( الفصل السادس فی الطلاق بالکتابۃ ج 1 ص 379 ط: ماجدیہ )۔
وفی الدر المختار: (الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا فتح الخ
وفی رد المحتار: (قوله الصريح يلحق الصريح) كما لو قال لها: أنت طالق ثم قال أنت طالق أو طلقها على مال وقع الثاني بحر، فلا فرق في الصريح الثاني بين كون الواقع به رجعيا أو بائنا (قوله ويلحق البائن) كما لو قال لها أنت بائن أو خلعها على مال ثم قال أنت طالق أو هذه طالق بحر عن البزازية، ثم قال: وإذا لحق الصريح البائن كان بائنا لأن البينونة السابقة عليه تمنع الرجعة كما في الخلاصة. الخ ( ج 3 ص 306 ط: سعید)۔