کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمٰی "محمد شاہد ولدتاج گل" کا نکاح مسماۃ "بشریٰ بی بی ولد خان ولی" کے ساتھ آج سے تقریباً دو سال قبل ہو گیا تھا، شادی کے بعد سے میاں بیوی کے درمیان ناچاقیاں بد مزگیاں چلتی رہیں جس کے متعلق وقتا فوقتا سلجھانے کے لئے دونوں خاندانوں کے جرگے بھی بٹھائے گئے،لیکن نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے، اور اب آخری فیصلہ دونوں میاں بیوی کے درمیان جدائی پر آکر رکا ہے، لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ لڑکی تقریبا تین ماہ کی حمل سے ہے، شوہر طلاق دینے کے لئے تیار ہے شوہر کا کہنا ہے کہ یا تو حمل کو ابھی چار ماہ سے پہلے پہلے ساقط کرلو یا اگر بچے کو پیدا کرنا چاہتے ہو تو اپنی ذمہ داری پر کرلو , میں دورانِ حمل بچے کی پیدائش اور بعد میں ہر قسم کی ذمہ داری اور خرچ اخراجات سے دستبردار ہوں گا ،میں کوئی ذمہ داری نہیں لوں گا آپ لوگ جانیں اور بچہ جانے , اب معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا ایسی صورت میں شوہر کے کہنے پر تین یا ساڑھے تین ماہ کا حمل ضائع کرنا درست ہوگا یا نہیں اور لڑکی حمل کو ضائع نہ کرے تو طلاق کے بعد عدت کا خرچہ , بچے کی پیدائش کے اخراجات اس کے بعد لڑکے کی پرورش وغیرہ کے اخراجات شوہر کے ذمہ ہوں گے کہ نہیں؟ یا اس کی دستبرداری سے وہ دستبردار ہو جائے گا ؟جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں۔
سوال میں ذکر کردہ بیان کے مطابق اولاً تو میاں بیوی اور خاندان والوں کو چاہیئے کہ اس رشتے کو ختم کرنے کے بجائے تھوڑے بہت معمولی اختلاف کو نظر انداز کرکے گھر بسانے کی کوشش کریں،لیکن اگر ہر ممکن کوشش کے باوجود نباہ ممکن نہ ہو اور دونوں میاں بیوی طلاق اور علیحدگی پر آمادہ ہوں اور شوہر طلاق دینا چاہے تو طلاق دینے کی صورت میں شوہر (سائل)کےلئے حمل ساقط کرنے کی شرط لگانا یا اس کے بعد بچے کی پیدائش اور اس کی کفالت پر آنے والے اخراجات سے دستبردار ہونا قطعاً درست نہیں،بلکہ طلاق ہوجانے کی صورت میں شوہر (سائل) کے ذمہ بیوی کی عدت کے ایام کا نان و نفقہ،بچے کی پیدائش اور اس کے بعد اس کی کفالت پر آنے والے اخراجات لازم اور ضروری ہونگے، جبکہ اگر کوئی شرعی عذر نہ ہو تو فقط شوہر کے کہنے پر بیوی کے ذمہ حمل ساقط کرنا کوئی لازم اور ضروری نہیں۔
کما فی رد المحتار تحت: (قوله وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة كذا في الفتح، وإطلاقهم يفيد عدم توقف جواز إسقاطها قبل المدة المذكورة على إذن الزوج. وفي كراهة الخانية: ولا أقول بالحل إذ المحرم لو كسر بيض الصيد ضمنه لأنه أصل الصيد فلما كان يؤاخذ بالجزاء فلا أقل من أن يلحقها إثم هنا إذا سقط بغير عذر اه قال ابن وهبان: ومن الأعذار أن ينقطع لبنها بعد ظهور الحمل وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاكه. ونقل عن الذخيرة لو أرادت الإلقاء قبل مضي زمن ينفخ فيه الروح هل يباح لها ذلك أم لا؟ اختلفوا فيه، وكان الفقيه علي بن موسى يقول: إنه يكره، فإن الماء بعدما وقع في الرحم مآله الحياة فيكون له حكم الحياة كما في بيضة صيد الحرم، ونحوه في الظهيرية قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لا تأثم إثم القتل اهـ. وبما في الذخيرة تبين أنهم ما أرادوا بالتحقيق إلا نفخ الروح، وأن قاضي خان مسبوق بما مر من التفقه، والله تعالى الموفق اه كلام النهر ح.(مطلب فی العزل،ج3،ص176،ص176،ط:سعید)۔
وفیہ أیضاً: (قوله ويكره إلخ) أي مطلقا قبل التصور وبعده على ما اختاره في الخانية كما قدمناه قبيل الاستبراء وقال إلا أنها لا تأثم إثم القتل (قوله وجاز لعذر) كالمرضعة إذا ظهر بها الحبل وانقطع لبنها وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاك الولد قالوا يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام الحمل مضغة أو علقة ولم يخلق له عضو وقدروا تلك المدة بمائة وعشرين يوما، وجاز لأنه ليس بآدمي وفيه صيانة الآدمي خانية اھ (429/6)۔
وفی الھدایۃ: " وإذا طلق الرجل امرأته فلها النفقة والسكنى في عدتها رجعيا كان أو بائنا " (إلی قولہ) {وَإِنْ كُنَّ أُولاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ} [الطلاق: من الآية6] الآية، ولنا أن النفقة جزاءاحتباس على ما ذكرنا والاحتباس قائم في حق حكم مقصود بالنكاح وهو الولد إذ العدة واجبة لصيانة الولد فتجب النفقة اھ (290/2)۔
وفی البحر الرائق: (قوله ولطفله الفقير) أي تجب النفقة والسكنى والكسوة لولده الصغير الفقير لقوله تعالى {وعلى المولود له رزقهن وكسوتهن بالمعروف} [البقرة: 233] فهي عبارة في إيجاب نفقة المنكوحات إشارة إلى أن نفقة الأولاد على الأب وأن النسب له وأنه لا يعاقب بسببه فلا يقتل قصاصا بقتله ولا يحد بوطء جاريته وإن علم بحرمتها وأن الأب ينفرد بتحمل نفقة الولد ولا يشاركه فيها أحد اھ (218/4)۔