کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے بہنوئی نے ہمیں اور دو تین رشتہ داروں کو یہ درجِ ذیل میسج سینڈ کیا ہے، اس میسج کی رو سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی، رہنمائی فرمائیں۔
میں ملک محمد حسنین بن ملک عامر عبداللہ اپنے پورے ہوش وحواس میں حرا ہاشمی دختر احسان الدین ہاشمی کو طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں۔
واضح ہو کہ میسج پر بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے ، چنانچہ سوال میں ذکرکردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اور سائل کے بہنوئی نے اپنی مدخول بہا بیوی کے متعلق مذکور الفاظ " میں ملک محمد حسنین بن ملک عامر عبداللہ اپنے پورے ہوش وحواس میں حرا ہاشمی دختر احسان الدین ہاشمی کو طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں"میسج پر سائل اور دیگر رشتہ داروں کو بھیجے ہوں تو اس سے شخص ِمذکورکی بیوی پرتینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے،اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد ِنکاح بھی نہیں ہو سکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کےبعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
کما فی رد المحتار تحت : ( قولہ طلقت بوصول الکتابۃ ) أی الیھا ( الی قولہ) ولو استکتب من آخر کتاباً بطلاقھا و قرأہ علی الزوج فأخذہ الزوج و ختمہ و عنونہ و بعث بہ الیھا فأتاہ و قع الخ ( کتاب الطلاق ، ج 3 ، ص 246 ، ط : سعید )۔
و فی الھندیۃ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية الخ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج 1، ص 473، ط: ماجدیہ)۔