کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلے کے بارے میں! کہ میں مسماۃ ثمینہ بنت نصیب زادہ کا نکاح مسمیٰ ذاکر اللہ ولد محمد امین کے ساتھ آج سے تقریبا ًچار سال قبل ہو گیا تھا ،ان چار سالوں کے دوران میرےشوہر نے مختلف مواقع پر تین تین مرتبہ طلاق کے الفاظ بولے ہیں، چونکہ میرا شوہر نشہ اور ٹیبلٹ( زینکس )کھاتا ہے تو غصہ میں آکر طلاق کے الفاظ بول دیتے ہیں۔
بیوی مسماۃ ثمینہ بنت نصیب زادہ کا حلفیہ بیان :میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ حلفیہ بیان دے رہی ہوں کہ میں جو کچھ کہوں گی سچ کہوں گی، اگر میں نے جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لیا تو اس کا عذاب اور وبال مجھ پر ہوگا، میرے شوہر نے تین مختلف مواقع پر تین تین مرتبہ طلاق کے الفاظ بولے ہیں" تہ پہ ما طلاق ئے" (تم مجھ پر طلاق ہو) معلوم یہ کرنا کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں ،اور اب ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟میرا سامان جہیز کس کا حق ہے ؟
شوہر کا حلفیہ بیان: میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ حلفیہ بیان دے رہا ہوں کہ میں جو کچھ کہوں گا سچ کہوں گا اگر میں نے بیان میں جھوٹ اور درو غ گوئی سے کام لیا تو اس کا عذاب اور وبال مجھ پر ہوگا ،میں نے ابھی نو دس دن پہلے لڑائی میں صرف دو مرتبہ طلاق کے الفاظ بولے ہیں اس کے علاوہ جو دو دو مرتبہ , تین تین طلاق کا دعوی کیا وہ جھوٹ پر مبنی ہے، میں نے اس سے پہلے کوئی طلاق نہیں دی ،شوہر ذاکر کی والدہ بھی آخری کی دو طلاق کی گواہی دے رہی ہیں، باقی مواقع کا وہ بھی انکار کرتی ہیں، اب دونوں فریقین کے بیانات کی روشنی میں جو بھی شرعی حکم ہو، اس کی رہنمائی فرمائیں۔
مفتی غیب نہیں جانتا، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے، اس لئے سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سوال کرنے والے پر عائد ہوتی ہے، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہو کہ سائلہ کا شوہر دو دفعہ "طلاق،کے الفاظ کا اقرار اور اعتراف کررہا ہے، اس لئے سائلہ پر دوطلاقیں تو بہرحال واقع ہوچکی ہیں، البتہ سائلہ مختلف مواقع پر تین سے زائد بار طلاق کا دعویٰ کررہی ہے اور اس کے پاس اپنے اس دعوے پر شرعی گواہان موجود نہیں ہیں،جبکہ شوہراس سے انکاری ہے، اور میاں بیوی میں سے ہر ایک اپنے اپنے بیان پر حلف اٹھانے اور قبروآخرت کی جواب دہی کے لئے تیار ہے،جب ایسی صورت درپیش ہو جائے کہ بیوی تین طلاقوں کی دعویدار ہو مگر اس کے پاس شرعی شہادت موجود نہ ہو اور شوہر طلاق دینے سے انکاری ہو تو ایسی صورت میں " المرأۃ کالقاضی " کے اصول کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے بیوی پر لازم ہے کہ اپنے آپ کو مطلقۂ ثلاثہ سمجھے اور شوہر کو اپنے اوپر قطعاً قدرت نہ دے، تاہم یہ معاملہ اگر مسلمان قاضی ( جج ) کی عدالت میں چلا جائے اور قاضی تین طلاقوں پر گواہ نہ ہونے کی وجہ سے شوہر کی قسم پر اس کے حق میں فیصلہ دے کر بیوی کو اس کے ساتھ روانہ کردے ، تو ایسی صورت میں بیوی اگرچہ گناہ گار نہ ہوگی، مگر پھر بھی اُسے چاہئیے کہ حتی الامکان شوہر کو اپنے اوپر قدرت نہ دے، بلکہ طلاق بالمال یا خلع کے ذریعہ اپنے شوہر سے خلاصی حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے،جبکہ سائلہ کو شادی کے موقع پر والدین کی طرف سے جو جہیز کا سامان ملا تھا اسی طرح سسرال والوں کی طرف سے جو ساما ن اور تحفے تحائف مالکانہ طور پر سائلہ کو دیے گئے ہیں،صرف استعمال کے لئے نہ دیے گئےہوں تو ان سب پر بھی سائلہ کا حق ہے،نیز حقِ مہر بھی اگر شوہر نے ادا نہ کیا ہو تو اس کی ادائیگی بھی اس پر لازم ہوگی،لہذا طلاق کی صورت میں سائلہ ان سب چیزوں کا مطالبہ کرسکتی ہے۔
کما فی ردالمحتار: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله (ج 3، ص251، ط : سعید)۔
وفی البحرالرائق: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه اهـ. ولا فرق في البائن بين الواحدة، والثلاث اهـ.(ج3،ص277،ط: دار الكتاب الإسلامي)۔
و فی الهدايۃ :وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض اھ (2/254)-
وفیہ ایضاً :والرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي " وهذا صريح في الرجعة (الی قولہ )قال: " أو يطأها أو يقبلها أو يلمسها بشهوة أو بنظر إلى فرجها بشهوة اھ (2/254)۔
وفی ردالمحتار: المختار للفتوى أن يحكم بكون الجهاز ملكا لا عارية لأن الظاهر الغالب إلا في بلدة جرت العادة بدفع الكل عارية فالقول للأب الخ (ج3 ، ص 157،ط:سعید)۔