کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں مسمیٰ ۔۔۔ اور میری بیوی مسماۃ ۔۔۔ عرصہ بیس سال سے ازدواجی حیثیت سے زندگی گزار رہے ہیں ،اب تقریباً دوماہ قبل میرا اور میری بیوی کا جھگڑا ہوا،جس میں میں نے غصہ میں آکر اپنی بیوی کو مذکور الفاظ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں "تین مرتبہ سے زیادہ بول دئیے،اس مسئلہ کا شرعی حکم واضح فرمادیں کہ ہم میاں بیوی کے درمیان کتنی طلاقیں واقع ہو ئی ہیں ؟
سائل کے اپنی بیوی "۔۔۔۔" کوزبانی طورپر مذکور الفاظ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں "تین سے زائد بارکہہ دینے سےاس کی بیو ی پرتین طلاقیں واقع ہوکرحرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا،اورحلالہ شرعیہ کےبغیرباہم عقدنکاح بھی نہیں ہوسکتا،لہذادونوں پرلازم ہےکہ فوراً ایک دوسرےسےعلیحدگی اختیارکریں،اورمیاں بیوی والا تعلق ہرگزقائم نہ کریں،ورنہ دونوں سخت گناہ گارہوں گے،جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنےکےبعداپنی مرضی سےدوسری جگہ نکاح کرنےمیں بھی آزاد ہے۔
کمافی الھدایۃ: وان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ،أوثنتین فی الأمۃ،لم تحل لہ حتی تنکح زوجاًغیرہ نکاحاًصحیحاً،ویدخل بھا،ثم یطلقھاأیموت عنھا الخ(ج2صـ92 کتاب الطلاق ط: انعامیۃ)۔
وفی الھندیۃ: وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة(الفصل الاول فی الطلاق الصریح ج1 ص355 ط:ماجدیہ)۔