کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے داماد نے اپنی بیوی (میری بیٹی)سے فون پر کہا کہ آج کے بعد تم نے میری والدہ کو گالی دی،یا تم اپنی والدہ کے گھر گئی تو تمہیں تین شرطوں پر طلاق ہے۔
بیوی (میری بیٹی)کا کہنا ہے کہ میں نے کال بند ہونے کے بعد اس کی ماں کو گالی دی ہے،تو اب کیا حکم ہے؟براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔
نوٹ:کال کی وائس دارالافتاء کے موبائل میں موجود ہے۔
واضح ہوکہ طلاق کو کسی شرط کےساتھ معلق کرنے کی صورت میں اس شرط کے پائے جانے کے ساتھ طلاق واقع ہوجاتی ہے،لہذا صورت مسؤلہ میں اگر سائل کے داماد نے مذکور الفاظ " آج کے بعد تم نے میری والدہ کو گالی دی،یا تم اپنی والدہ کے گھر گئی تو تمہیں تین شرطوں پر طلاق ہے"کہہ دیئے ہوں تو اس سے تینوں طلاقیں معلق ہوچکی تھیں،چنانچہ کال بند ہونے کے بعد جب سائل کی بیٹی نے اپنی ساس کو گالی دے دی تو شرط پائی جانے کی وجہ سے معلق تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت ِمغلظہ ثابت ہوچکی ہے اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں،ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ عورت عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما فی الھندیۃ : و اذا اضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقاً مثل ان یقول لأمرأتہ ان دخلت الدار فأنت طالق الخ (فصل فی تعلیق الطلاق الخ، ج 1، ص 420 ، ط : ماجدیہ)۔
وفیہ ایضاً : و ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ و ثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحاً صحیحا و یدخل بھا تم یطلقھا او یموت عنھا کذا فی الھدایۃ (فصل فیما تحل بہ المطلقۃ الخ ، ج 1 ، ص 473 ، ط : ماجدیہ)۔