السلام علیکم!
سجاد عالم میرا بھائی ، جس کو عرصہ پانچ سال پہلے دماغ میں چوٹ لگی تھی، اس کے بعد سے وہ ہر بات کا الٹا جواب دینے لگا، پھر ایک بار وہ گھر سے کافی دور بھاگ گیا اور گھر پر نہیں آ رہا تھا، پھر ہم نے ڈاکٹر کو چیک کروایا تو ڈاکٹر نے کہا کہ اس کے دماغ کی ایک رگ دبی ہوئی ہے، پھر جب یہ دوائیاں کھاتا ہے تو ٹھیک رہتا ہے، ایک بار یہ فوجی کیمپ میں چلا گیا اور کہنے لگا کہ مجھے انڈیا جانا ہے، پھر ہم اس کو وہاں سے گھر لے کر آئے اوروہ دوائیاں کھانے کے بعد ٹھیک ہو گیا، لیکن کچھ ہی دنوں بعد اس نے کہا کہ مجھے دوسری شادی کرنی ہے اور ہمارے رشتہ داروں کے گھر جہاں لڑکی ہوتی وہاں جا کر زبردستی ان سے شادی کرنے کو کہتا ،بڑی مشکل سے اس کو گھر پر رکھنا پڑتا ہے اور جب اس سے کوئی بھی بات کرو تو اس کا بالکل ٹھیک جواب بھی دیتا ہے، مگر رہ رہ کر ایسے الفاظ کہتا ہے، جو انسان سوچ بھی نہیں سکتا ، اب اس نے اپنی بیوی جس سے اس کے تین بچے ہیں، اس کو طلاق کے الفاظ کہے اور کئی بار کہے تو ایسی صورت میں کیا اس کی طلاق ہوگی؟ جب کہ ہم پانچ سالوں سے اس کا علاج بھی کروا رہے ہیں، ویسے بات چیت کرنے میں بالکل ٹھیک ہے اور جب اس سے پوچھا کہ تم نے طلاق کا لفظ کیوں کہا، تو جواب میں کہا کہ مجھے خود نہیں پتا کہ میں نے کیوں کہا، وہ جو کہتا ہے اسے خود معلوم نہیں ہوتا کہ وہ صحیح ہے یا غلط، پھر ایسی صورت میں طلاق دی، تو کیا طلاق ہوگی یا نہیں؟
میرے بھائی سجاد عالم کی فائر بریگیڈ میں جاب ہے، یہ وہاں بھی نہیں جاتا، کہتا ہے میں گورنمنٹ کا ملازم نہیں بن سکتا، لیکن تنخواہ لینے چلا جاتا ہے اور مسجد بھی جانے سے انکار کرتا ہے اور اس کا دماغ بھی اس کے قابو میں نہیں ہے اور نہ ہی کسی سے زیادہ بات کرتا ہے، اپنے ہی اندر کھویا رہتا ہے، آج سے پانچ سال پہلے جب اس کے دماغ میں چوٹ نہیں تھی، تب یہ بالکل ٹھیک تھا۔نوٹ! طلاق دیتے وقت شوہر کو یہ پتہ تھا کہ یہ میری بیوی ہے اور اس نے بیان دیتے وقت اس کا اقرار کیا اور اس کو طلاق کا سارا واقعہ بھی یاد ہے ۔الفاظ طلاق یہ تھے "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں "یہ الفاظ تین بار سے زیادہ بولے تھے۔
سوال کے ساتھ درج وضاحتی نوٹ کے مطابق جب طلاق دیتے وقت سائل کے بھائی کا دماغی توازن واقعۃً درست اور صحیح سالم تھا، جس کا وہ خود بھی اقرار کرچکا ہے تو ایسی صورت میں سائل کے بھائی کے اپنی بیوی کو مذکور الفاظ" میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" تین سے زائد مرتبہ کہہ دینے سے اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت ِمغلظہ ثابت ہو چکی ہے اور بقیہ طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہو چکی ہیں ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا اور تین طلاقوں کے بعد جتنا عرصہ میاں بیوی کی طرح ایک ساتھ رہے ہیں ، دونوں سخت گناہ گار ہوئے ہیں ، جس پر بصدقِ دل توبہ و استغفار اور آئندہ کیلئے دوبارہ اس قسم کے ناجائز تعلقات قائم کرنے سے اجتناب لازم ہے ، جبکہ عورت عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
کما فی الدر المختار: (والمجنون) إلا إذا علق عاقلا ثم جن فوجد الشرط، أو كان عنينا أو مجبوبا أو أسلمت وهو كافر وأبى أبواه الإسلام وقع الطلاق أشباه اھ
وفی ردالمحتار تحت: (قوله والمجنون) قال في التلويح: الجنون اختلال القوة المميزة بين الأمور الحسنة والقبيحة المدركة للعواقب، بأن لا تظهر آثاره وتتعطل أفعالها، إما لنقصان جبل عليه دماغه في أصل الخلقة، وإما لخروج مزاج الدماغ عن الاعتدال بسبب خلط أو آفة، وإما لاستيلاء الشيطان عليه وإلقاء الخيالات الفاسدة إليه بحيث يفرح ويفزع من غير ما يصلح سببا. اهـ.(کتاب الطلاق،ج3،ص243،ط:سعید)۔
وفیہ ایضاً: قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان، قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام : أحدها أن يحصل له مبادي الغضب بحيث لايتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه، الثاني : أن يبلغ النهاية فلايعلم ما يقول ولايريده، فهذا لا ريب أنه لاينفذ شيء من أقواله، الثالث : من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون، فهذا محل النظر والأدلة تدل على عدم نفوذ أقواله اهـ ملخصًا من شرح الغاية الحنبلية، لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال: ويقع طلاق من غضب خلافًا لابن القيم اهـ وهذا الموافق عندنا لما مر في المدهوش".( كتاب الطلاق 3/244 ،ط: سعيد)۔
وفی الھندیۃ : و ان کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ و ثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحاً صحیحاً و یدخل بھا ثم یطلقھا او یموت عنھا کذا فی الھدایۃ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ، ج 1 ، ص 473 ، ط : ماجدیہ )۔