میری ایک عزیزہ نے ایک بندے سے دو گواہان کی موجودگی میں شرعی نکاح کرلیا،اور کہا کہ کچھ عرصہ تک گھر والوں کو بھیج کر باقاعدہ رشتہ کرلے گا،بعد مین پتہ چلا کہ وہ بندہ پہلے سے شادی شدہ ہے،میری عزیزہ اب اس سے نکاح برقرارنہیں رکھنا چاہتی ،مگر وہ بندہ طلاق بھی نہیں دے رہا،اب میری عزیزہ کے پاس شرعی راستہ کیا ہے نکاح کو فسخ کرنے کا؟
مذکور لڑکی کا اولیاء کی اجازت ورضامندی کے بغیر کسی شخص کے ساتھ چھپ کر نکاح کرنا تو انتہائی نامناسب تھا،تاہم اگر مذکور شخص لڑکی کا کفوء اور ہم پلہ ہو اور نکاح گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب وقبول کے ساتھ مہرِ مثل پر ہوا ہو تو شرعاً یہ نکاح منعقد ہوچکاہے،اب مذکور شخص کے فقط شادی شدہ ہونے کی وجہ سے لڑکی کو فسخِ نکاح کا حق نہ ہوگا،البتہ اگر لڑکی مذکور شخص کے ساتھ رہنے پر رضامند نہ ہو تومہر کی معافی یا کچھ مال کے عوض کسی طرح اسے طلاق کے لیے آمادہ کرکے اس سے علیحدگی حاصل کرسکتی ہے۔
کمافی رد المحتار: وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر، بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه، وهو معنى قولهم الأصل فيه الحظر والإباحة للحاجة إلى الخلاص، فإذا كان بلا سبب أصلا لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص بل يكون حمقا وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها، ولهذا قالوا: إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى، فليست الحاجة مختصة بالكبر والريبة كما قيل، بل هي أعم كما اختاره في الفتح، فحيث تجرد عن الحاجة المبيحة له شرعا يبقى على أصله من الحظر الخ(ج3 ص228 کتاب الطلاق ط: سعید)۔
وفی تکملۃ فتح الملھم: تم إن لم تثمر جھود ھذین الحکمین ولم تزل الخلافات قائمۃ،فحینئذ أباحت الشریعۃ الاسلامیۃ الطلاق للزوج قائلۃ لہ”أن أبغض المباح الی اللہ تعالی الطلاق“اخرجہ ابوداؤد (الی قولہ) ولو لم تشترط ذلک فی العقد فلھا أن تختلع من زوجھا برضاہ،وإن لم یکن ذلک فلھا أن تطلب من القاضی فسخ النکاح إذا کان زوجھا عنینا أو مجنونا أو متنعتا أو مفقودا اھ(ج1 ص134 کتاب الطلاق ط: دارالعلوم کراتشی)۔