کیا فرتے ہیں علماءِ کرام مندر جہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمی وسیم ولد سید زرین خان گھر میں سویا ہوا تھا ، میری والدہ میرے پاس آئی اور مجھے کہا کہ آپ کی بیوی کو ہم میکے بھیج رہے ہیں ، کیونکہ میں کوئی کام نہیں کرتا تھا ، تو میں نے کہا "چہ پلار کرہ یے لیگےنو پہ ما طلاقہ ده ،طلاقہ ده ، طلاقہ ده ، " ابھی تک وہ والدین کے گھر نہیں گئی ہے ، نہ ہم نے بھیجا ہے ، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں طلاقیں واقع ہو گئیں کہ نہیں ؟ اور اگر نہیں ہوئی ہیں تو اس سےبچنے کا کیا طریقہ ہے ، کہ والد ین کے گھر بھی جائےاور تین طلاق بھی واقع نہ ہوں ، گھر بچ جائے ؟ جو بھی شرعی حکم ہو، تحریر فرمائیں ۔
صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے مذکور الفاظ طلاق "چہ پلار کرہ یےلیگےنو پہ ما طلاقہ ده ،طلاقہ ده ، طلاقہ ده ، " (جب اسے والد کے گھر بھیج رہی ہو تو مجھ پر طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے) کہہ دیے، تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اگرچہ عورت اپنے میکے نہ گئی ہو، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقد ِنکاح بھی نہیں ہو سکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ سائل کی بیوی ایّامِ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے ۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایّامِ عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرےمسلمان سے اپنا عقدِ نکاح کرے ، چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری ( جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے ، مگر اس کا پہلے انتقال ہو جائے تو بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقدِ نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر کے تحقق کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا ، تاکہ زوجِ اول دوبارہ اسکے ساتھ عقد نکاح کرے ، یہ مکروہِ تحریمی ہے اور اس پر حدیث میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، لہذا ایسے حلالہ سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے ۔
کما قال الله تعالى : فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الخ (سورة البقرة ، الأية : 230)-
و في صحيح البخاري : عن عائشة رضي الله عنها جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقني فأبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب فقال أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك الخ (باب شهادة المختبي، ج 2 ، ص 1243 ، رقم : 2639 ، ط : البشرى)-
و في سنن أبي داود : عن علي رضي الله عنه، قال إسماعيل: وأراه قد رفعه إلى النبي صلى الله عليه وسلم أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : لعن الله المحلل، والمحلل له (باب في التحليل ، ج 2 ، ص 227 ، رقم : 2076 ، ط : المكتبة العصرية، بيروت)-
و في بدائع الصنائع : و أما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، و زوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر ؛ لقوله عز وجل فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة الخ (فصل وأما حكم البائن ، ج 3 ، 187، ط : سعيد)-
وفي الفقه الإسلامي وأدلته : والبائن بينونة كبرى: هو الذي لا يستطيع الرجل بعده أن يعيد المطلقة إلى الزوجية إلا بعد أن تتزوج بزوج آخر زواجاً صحيحاً، ويدخل بها دخولاً حقيقياً، ثم يفارقها أو يموت عنها، وتنقضي عدتها منه. وذلك بعد الطلاق الثلاث حيث لا يملك الزوج أن يعيد زوجته إليه إلا إذا تزوجت بزوج آخر . (ج 9، ص 6956 ، ط : دار الفكر، سورية ، دمشق)-