کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمیٰ فرمان علی ولد صاحبزادہ نے اپنی منکوحہ فاطمہ بنت عثمان گل کو گھریلو لڑائی جھگڑے کے دوران تین مرتبہ طلاق دی، طلاق کے الفاظ یہ تھے" تہ پہ ماطلاقہ ئے" تم مجھ پر طلاق ہو ، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں، اور اب ہمارے لئے کیا حکم ہے؟
سائل نے جب لڑائی جھگڑے کے دوران اپنی بیوی کو مذکور الفاظ "تہ پہ ما طلاقہ ئے "(تم مجھ پر طلاق ہو)تین مرتبہ کہہ دیے تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقد ِنکاح بھی نہیں ہو سکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گنا ہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایّامِ عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے شخص سے اپنا عقدِ نکاح کرے، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے، مگر اس کا پہلے انتقال ہو جائے تو بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقد ِنکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر پر شرعی گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد ِنکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا، تاکہ زوجِ اول کے لئے عورت حلال ہو جائے ، مکروہ ِتحریمی ہے ، اور اس پر احادثِ مبارکہ میں وعید وارد ہوئی ہے، لہذا اس سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے ۔
قال اللہ تعالی: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ( سورۃ البقرۃ ایۃ 230)۔
وفی اعلاء السنن:عن عائشۃ قالت: جائت امراۃ رفاعۃ القرظی الی النبیﷺ فقالت:کنت عند رفاعۃ فطلقنی فبت طلاقی،فتزوجت بعدہ عبد الرحمن ابن زبیر(الی قولھا)فقالﷺ:اتریدین ان ترجعی الی رفاعہ؟لا!حتی تذوقی عسیلتہ ویذوق عسیلتک الخ(ج 11 ص 213)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛الخ (ج3 ص187 فصل في حكم الطلاق البائن ط سعید)۔
وفی الدرالمختار: ويتأكد (عند وطء أو خلوة صحت) من الزوج (أو موت أحدهما) أو تزوج ثانيا في العدة الخ ( ج3 ص 102 باب المھر ط سعید)۔