السلام علیکم! کیا حال ہے مفتی صاحب! میں امید کرتاہوں، آپ خیریت سے ہونگے،طلاق سے متعلق ایک مسئلہ پوچھنا تھا: میں نے گھر والوں سے چھپ کر شادی کی تھی،اس کے بعد جب گھروالوں کو پتہ چلا تو انہوں نے زور زبر دستی کی،اور مجھے طلاق پر مجبور کیاگیا،میں طلاق نہیں دینا چاہتاتھا، لیکن گھر والوں نے مجھےمارا پیٹا، اورطلاق پر مجبور کیا،اور پھر یہ بتایا کہ ایسے طریقہ سے آپ اپنی بیوی کو طلاق دیدیں کہ آئندہ اس کے ساتھ دوبارہ نکاح نہ ہوسکے،پھر انہوں نے مجھے بعینہ ان الفاظ کے کہنے کے بارے میں بتایا،کہ آپ یہ الفاظ ادا کریں "فاطمہ پہ ما پہ کلما سرہ طلاقہ دے"یعنی" فاطمہ مجھ پر کلما کے ساتھ طلاق ہے"تین مرتبہ مجھ سے یہ الفاظ کہلوائے گئے،جو کہ میں نے کہہ دئیےتھے، پھر میں نے ایک مفتی صاحب سے اس مسئلہ کے بارے میں پوچھا تھا،تو انہوں نے بتایا کہ یہ طلاق واقع نہیں ہوئی،اسلئے کہ کلما کا تعلق مستقبل کے ساتھ ہوتا ہے،لیکن اس نے پھر یہ بھی کہا کہ کسی دار الافتاء سے معلوم کرلیں، اور اگر طلاق واقع ہو بھی گئی ہو، توبھی حلالہ کے بعد باہم ازداجی زندگی گزارنے کی کوئی نہ کوئی صورت پیدا ہوسکتی ہے،تو اب مجھے میرے مسئلہ کا حل چاہیئے؟کیا ہم دونوں کےلئے دوبارہ رجوع یاحلالہ وغیرہ کے بعد تجدید نکاح کرسکتے ہیں یا اس کی کوئی صورت نہیں ہے؟
صورت مسئولہ میں سائل اور مذکور لڑکی کااولیاء کی ضامندی کے بغیر چھپ کر اپنی مرضی سے نکاح کرنا انتہائی نامناسب اور بڑی جسارت پر مبنی عمل تھا، تاہم اگرسائل اور مذکورلڑکی ہم پلہ ہوں، اور یہ نکاح باقاعدہ گواہان کی موجود گی میں ایجاب وقبول کے ساتھ کیا گیاہو، تو شرعاً یہ نکاح منعقد ہوچکا تھا، چنانچہ اس کے بعد اگرچہ سائل نے خاندانی دباؤ کی وجہ سے مذکور الفاظ "فاطمہ پہ ما پہ کلما سرہ طلاقہ دے" یعنی " فاطمہ مجھ پر کلما کیساتھ طلاق ہے" تین بار کہہ دئیے ہوں، تو ان الفاظ میں لفظ "کلّما" ایک زائد اور غیر مؤثر لفظ ہے، جبکہ بقیہ الفاظِ طلاق سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا، جبکہ عورت ایام عدت گزارنے کےبعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
اورحلالہ شرعیہ یہ ہےکہ عورت ایامِ عدت گزارنےکےبعدبغیرکسی شرط کےکسی دوسرےشخص سےاپناعقدنکاح کرے،چنانچہ وہ دوسراشخص بھی اس سےایک مرتبہ ہمبستری(جوکہ حلالہ شرعیہ کےلئےضروری ہے)کےفوراً بعدیاازدواجی زندگی کےکچھ عرصہ بعدطلاق دیدےیاطلاق تونہ دے،مگراس کابیوی سےپہلےانتقال ہوجائے،توبہرصورت اسکی عدت گزارنےکےبعداگروہ پہلےشوہرکےنکاح میں آناچاہےاورپہلاشوہربھی اسےرکھنےپررضامندہو،تونئےحق مہرکےتقررکےساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدنکاح کرکےباہم میاں بیوی کی حیثیت سےزندگی بسرکرسکتےہیں،تاہم حلالہ اس شرط کیساتھ کرناکہ زوج ثانی ہمبستری کےبعدبیوی کوطلاق دیگا،تاکہ زوج اول دوبارہ اس کےساتھ عقدِنکاح کرےیہ مکروہ تحریمی ہے،اوراس پرحدیث میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں،لہذایسےحلالہ سےاحتراز لازم ہے،البتہ بلاشرط ایساکرنا بلاشبہ جائزاوردرست ہے۔
فتاویٰ فریدیہ میں ہے:
سوال: کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دو فریق میں قتل کا معاملہ تھا، پھر مقتول اور قاتل دونوں فریق کے درمیان فیصلہ ہوچکا تھا، لیکن مقتول کی جانب سے ایک آدمی نے جب قاتل کو علیحدگی میں پایا تو قاتل پردو فائر کئے، لیکن بندوق خراب ہو کر وہ بچ گیا، پھر س فائر کرنے والے نے قاتل سے کہا کہ میں آپ کو صرف اس شرط پر چھوڑتا ہوں کہ آپ کلما طلاق لیں، قاتل نے تین مرتبہ ڈھیلے پھینکے، اور کہا کہ میری کلما طلاق ہو، جبکہ یہ شخص قاتل کلما کچھ نہ جانتا تھا، اب اس طلاق کا کیا حکم ہے؟
الجواب: اس قاتل پر باقاعدہ ایک طلاق رجعی عائد ہوگی، جس میں عدت گزرنے سے قبل زبانی رجوع کافی ہے۔(ج5 ص421-422 باب تعلیق الطلاق، اہتمام اشاعت: مولانا حافظ حسین احمد صدیقی نقشبندی مہتمم دار العلوم صدیقیہ زروبی صوابی (پاکستان)۔
کما فی الدر المختار: باب الصريح (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة) الخ (ج3 صـ247 کتاب الطلاق ط: دار الفکر)۔
وفی رد المحتار: قلت: لكن قال في [نور العين] الظاهر أنه لا يصح اليمين لما في البزازية من كتاب ألفاظ الكفر: إنه قد اشتهر في رساتيق شروان أن من قال جعلت كلما أو علي كلما أنه طلاق ثلاث معلق، وهذا باطل ومن هذيانات العوام اهـ فتأمل الخ (ج3 صـ247 کتاب الطلاق باب الصریح ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة الخ (ج1 صـ355 کتاب الطلاق الباب الثانی ط: دار الفکر)۔