کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں، کہ میں مسماۃ ۔۔۔۔۔۔کا نکاح مسمیٰ ۔۔۔۔۔کے ساتھ آج سے تقریبا ڈیڑھ سال قبل ہو گیا تھا، ابھی گزشتہ مہینے دونوں میاں بیوی کے درمیان طلاق کے متعلق معاملہ ہوا،جس میں میاں بیوی کا اختلاف ہے۔
بیوی مسماۃ ۔۔۔۔۔۔۔ کا حلفیہ بیان: میں ۔۔۔ اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ حلفیہ بیان دے رہی ہوں کہ میں جو کچھ کہوں گی سچ کہوں گی اگر میں نے اپنے بیان میں جھوٹ اور غلط بیانی سے کام لیا تو اس کا عذاب اور وبال مجھ پر ہوگا کہ رات سے ہی گھر میں لڑائی جھگڑے کا ماحول تھا، صبح ناشتہ کے وقت میرے شوہر نے تین مرتبہ مجھے طلاق کے الفاظ بولے کہ "تم مجھ پر طلاق ہو گئی ہو"پہ ما طلاقہ شوئے، اور اس کے بعد مجھے رکشہ میں بٹھا کر میرے والدین کے گھر پر چھوڑ دیا اور اب یہ اپنے تین مرتبہ کے الفاظ سے مکررہار ہے۔
شوہر مسمیٰ ۔۔۔۔۔ کا حلفیہ بیان: میں مسمیٰ ۔۔۔۔ اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ حلفیہ بیان دے رہا ہوں کہ میں جو کچھ کہوں گا سچ کہوں گا اگر میں نے اپنے بیان میں جھوٹ اور غلط بیانی سے کام لیا تو اس کا عذاب اور وبال مجھ پر ہوگا،حالات یہی تھے رات سے کسی بات پر جھگڑے کا ہی ماحول تھا اور بیوی مجھ سے بار بار طلاق کا مطالبہ کر رہی تھی آخر کار صبح کے وقت اس کو خاموش کرانے کے لیے میں نے صرف ایک مرتبہ "پہ ما طلاقہ شوئے "کا جملہ بولا ہے تین مرتبہ بالکل بھی نہیں بولا۔
اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاق واقع ہوئی ہیں اور اب ہمارے لیے کیا حکم ہے؟
مفتی غیب نہیں جانتا، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے، اس لئے سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سوال کرنے والے پر عائد ہوتی ہے، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہو کہ سائلہ کا شوہر بھی چونکہ ایک دفعہ "طلاق"کے الفاظ کہنے کا اقرار اور اعتراف کررہا ہے، اس لئے سائلہ پر ایک طلاق تو بہرحال واقع ہوچکی ہے، البتہ سائلہ ایک طلاق کے علاوہ مزید دو طلاقوں کا بھی دعویٰ کررہی ہےلیکن اس کے پاس اپنے اس دعوے پر شرعی شہادت موجود نہیں ،جبکہ شوہرمزید طلاقیں دینے سے انکاری ہے، اور میاں بیوی میں سے ہر ایک اپنے اپنے بیان پر حلف اٹھانے اور قبروآخرت کی جواب دہی کے لئے تیار ہے،جب ایسی صورت درپیش ہو جائے کہ بیوی تین طلاقوں کی دعویدار ہو مگر اس کے پاس شرعی شہادت موجود نہ ہو اور شوہر طلاق دینے سے انکاری ہو تو ایسی صورت میں " المراۃ کالقاضی " کے اصول کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے بیوی پر لازم ہے کہ اپنے آپ کو مطلقہ ثلاثہ سمجھے اور شوہر کو اپنے اوپر قطعاً قدرت نہ دے، تاہم یہ معاملہ اگر قاضی ( جج ) کی عدالت میں چلا جائے اور قاضی تین طلاقوں پر گواہ نہ ہونے کی وجہ سے شوہر کی قسم پر اس کے حق میں فیصلہ دے کر بیوی کو اس کے ساتھ روانہ کردے ، تو ایسی صورت میں بیوی اگرچہ گناہ گار نہ ہوگی، مگر پھر بھی اُسے چاہیے کہ حتی الامکان شوہر سے طلاق بالمال یا خلع کے ذریعہ اپنے شوہر سے خلاصی حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے۔
کما فی ردالمحتار: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله.(ج3،ص251،ط:سعید)۔
وفی البحرالرائق: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه اهـ. ولا فرق في البائن بين الواحدة، والثلاث اهـ.(ج3،ص277،ط: دار الكتاب الإسلامي)۔
و فی الهدايۃ :وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض اھ (2/254)۔