السلام علیکم ! میرے بھائی مرحوم کے پانچ بچے ہیں: ایک بیٹا اور چار بیٹیاں ہیں، ان کی سرپرستی کا اصل حقدار کون ہوگا؟
واضح ہو کہ والد کے انتقال ہو جانے کی صورت میں بچہ جب تک سات سال کا نہ ہوا ہو، اور بچی نو سال کی عمر کو نہ پہنچی ہو، تب تک ان کی پرورش کی زیادہ حقدار ان کی ماں ہوتی ہے بشرطیکہ وہ بچوں کے غیر ذی رحم محرم شخص سے شادی نہ کر لے، لیکن بچے جب مقررہ عمر کو پہنچ جائیں، تو ان بچوں کے دادا اور ان کی عدم موجودگی میں ان کے چچا کو انہیں اپنی تحویل میں لینے کا اختیار حاصل ہے ، چنانچہ اگر وہ ان بچوں کو اپنی تحویل میں لینا چاہے تو لے سکتا ہے ،جبکہ اس دوران بچوں کے اخراجات والدِ مرحوم کے ترکہ سے ملنے والے حصۂ شرعی سے پورے کیے جائیں گے، بصورتِ دیگر ترکہ نہ ہونے کی صورت میں ان کے اخراجات ان کی والدہ اور دادا / چچا کے ذمہ حصصِ میراث کے مطابق اثلاثاً (ایک حصہ والدہ اور دو حصے چچا/ دادا کے ذمے) ان کی وسعت کے مطابق لازم ہوں گے۔
کما في الدر المختار: باب الحضانة: بفتح الحاء و كسرها: تربية الولد (تثبت للأم) النسبية (إلى قوله) (ثم) أي: بعد الأم بأن ماتت أو لم تقبل أو أسقطت حقها أو تزوجت بأجنبي)أم الأم (و إن علت عند عدم أهلية القربى) ثم أم الأب و إن علت (إلى قوله) ثم الأخت لأب و أم ثم الأم (لأن هذا الحق لقرابة الأم) ثم (الأخت) لأب (ثم بنت الأخت لأبوين ثم الأم ثم الأب) ثم الخالات كذلك إلخ(ج: 5،ص: 258،ط: دار المعرفة)۔
وفي الفتاوى التاتارخانية: فإن ماتت الأم فأم الأم أولى بحضانة الولد و تعهده و ذكر البقالي عن أبي يوسف أن أم الأب أولى من أم الأم و في الخلاصة الخانية: و إذا بطل حق الأم كانت الحضانة للجدة من قبل الأم و إن علت فإن لم تكن الجدة من قبل الأم فالجدة من قبل الأب م: و بعد أم الأب الحضانة إلى الأخوات أولاهن الأخت لأب و أم و بعدها الأخت لأم (إلى قوله) م: فعلى رواية كتاب النكاح اعتبر القرب و الأخت لأب أقرب و على رواية كتاب الطلاق اعتبر المدلى به و قال: الأخت لأب تدلى بالأب و الخالة تدلى بالأم و الأم في الحضانة تقدم على الأب فمن يدلى بالأم يكون أولى ممن يدلى بالأب إلخ (ج: 5،ص: 274،ط: مكتبة رشيديّة)۔
وفي الفتاوى تاترخانية: و في الذخيرة: و إذا ماتت الأم و ليس أحد من النساء للصغير ذا رحم محرم منه فحق الحضانة للرجال من العصبات على ترتيب الميراث فإن لم يكن عصبة فهذا الحق يثبت لذوي الارحام إلخ (ج: 4،ص: 91،ط: إدارة القران)۔
و في الدر المختار: ثم العصبات بترتيب الارث، فيقدم الاب ثم الجد ثم الاخ الشقيق، ثم لاب ثم بنوه كذلك، ثم العم ثم بنوه و إذا اجتمعوا فالأورع ثم الأسن إلخ (ج: 5،ص: 263،ط: مكتبة زكريا)۔
و في الفتاوى التاتارخانية: الصغيرة لا تدفع إلى عصبة غير محرم مع وجود محرم غير العصبة كالخال مع ابن العم فانها تدفع إلى الخال إلخ (ج: 5،ص: 277،ط: مكتبة زكريا)۔
و في الدر المختار: (و الحاضنة) أما أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء و قدر بسبع و به يفتى لأنه الغالب (إلى قوله) (و الأم والجدة) لأم أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية (إلى قوله) و أقول: ينبغي أن يحكم سنها و يعمل بالغالب و عند مالك: حتى يحتلم الغلام، و تتزوج الصغيرة و يدخل بها الزوج، عيني (و غيرهما أحق بها حتى تشتهي) و قدر بتسع، و به يفتى إلخ(ج: 5،ص: 267،ط: مكتبة زكريا)۔
و في الفتاوى الهندية: و لو كان له أم و جد فإن نفقته عليهما اثلاثاً على قدر مواريثهما الثلث على الأم و الثلثان على الجد إلخ (ج: 1،ص: 577،ط: قدمي كتب خانه)۔
مشرکانہ عقائد کے حامل لڑکے کو رشتہ دینا-بدعات میں مبتلاء آباء و اجداد کیلۓ دعاۓ مغفرت کرنا
یونیکوڈ رشتہ داروں کے حقوق و فرائض 0لائیو ٹی وی پروگرامات میں شرکت کرنا کیسا ہے؟/ والد نہ ہو تو بڑے بھائی کا کیا مقام ہے؟
یونیکوڈ رشتہ داروں کے حقوق و فرائض 0غلط رویوں اور الزام تراشی کی وجہ سے رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنا
یونیکوڈ رشتہ داروں کے حقوق و فرائض 0شادی شدہ لڑکی کا والدین کو اپنی پریشانیوں سے آگاہ کرنا درست ہے ؟
یونیکوڈ رشتہ داروں کے حقوق و فرائض 0بھائی کے انتقال کے بعد بھتیجے اور بھتیجیوں کی حق پرورش کا حقدار کون ہوگا؟
یونیکوڈ رشتہ داروں کے حقوق و فرائض 0کسی کے ساتھ زیادتی کرنے کے بعد صرف اللہ سے معافی مانگنا کافی ہے؟
یونیکوڈ رشتہ داروں کے حقوق و فرائض 0