السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! میرے شوہر نے پانچ ستمبر کو مجھے فون پر مذکور الفاظ " میں تمہیں اپنےہوش وحواس میں طلاق دیتا ہوں "سےایک طلاق دی وہ دبئی میں ہوتے ہیں اور اس کے بعد انہوں نے کہا میری نیت طلاق دینے کی نہیں تھی میں سوال کر رہا تھا کہ اس طرح طلاق دیتے ہیں لیکن علماء کرام سے پوچھنے پر انہوں نے یہی کہا کہ طلاق واقع ہو چکی ہے،اب وہ مجھ سے رجوع کرنا چاہتے تھے اور معافی مانگ رہے تھے کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے میں نے طلاق نہیں دینی تھی میں سوال کر رہا تھا اس کے بعد وہ پاکستان آ گئے اور رجوع کر لیا گیا ، پاکستان آ کر یکم اکتوبر کو کسی بات پر جھگڑا ہو رہا تھا اور انہوں نے مجھے گالی گلوچ بھی دی اور میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ اسی طرح لڑنا چاہتے ہیں تو ہم ساتھ نہیں رہتے ہم الگ ہو جاتے ہیں آپ مجھے بقیہ طلاق دے کر فارغ کر دیں اور اس بات پر انہوں نے یہ جملہ بولا کہ ٹھیک ہے "میں نے تمہیں فارغ کیا چلی جاؤ" کیا اس طرح طلاق دینے سے طلاق ہو جاتی ہے یا نہیں؟ اور اگر طلاق ہو جاتی ہے تو بغیر حلالہ کے نکاح کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ میں یہاں پر یہ بات بھی شامل کرنا چاہوں گی کہ پہلی طلاق ہو جانے کے بعد میں ان سے رجوع نہیں کرنا چاہتی تھی کیونکہ ہمارے درمیان بہت زیادہ اختلافات تھے اور آئے دن ہی لڑائی ہوتی تھی جس میں وہ مجھے یہی دھمکی دیتے تھے کہ میں تمہیں چھوڑ دوں گا اور کبھی میں تھک ہار کے کہہ دیتی تھی کہ ہاں ٹھیک ہے آپ مجھے چھوڑ دیں اور کبھی میں رابطہ منقطع کر دیتی تھی اس لیے میں نہیں چاہتی تھی کہ مزید میں اذیت میں رہوں اور میں رشتہ ختم کرنا چاہتی تھی لیکن وہ مسلسل یہی کہہ رہے تھے کہ نہیں مجھے ساتھ رہنا ہے تمہیں جو گارنٹی چاہیے میں دیتا ہوں اور بہت زیادہ کہنے پر جب میں نے ان سے کہا کہ وہ جگہ میرے نام لکھوائیں ہم نے عنقریب گھر بنانا ہے میں نے کہا کہ جہاں گھر بنانا ہے وہاں کی آدھی جگہ میرے نام کی جائے تو میں آپ کے ساتھ چلنے کو رضامند ہوں اور وہ اس بات پر رضامند ہو گئے کہ ٹھیک ہے کروا دوں گا وہ آدمی پاکستان سے باہر تھا جس کے نام پر وہ جگہ تھی میں نے کہا کہ وہ جگہ میرے نام ہوگی تو ہی میں رجوع کروں گی اور اس پر انہوں نے کہا کہ تم رجوع کر لو وہ جب بھی پاکستان آئیں گے میں جگہ تمہارے نام کروا دوں گا اور ہم نے رجوع کر لیا، وہ شخص ابھی پاکستان آ چکے ہیں جن کے نام جگہ ہے میں نے ان سے کہا کہ وہ جگہ میرے نام کروائیں آپ نے کہا تھا اگر نہیں تو میں یہ رشتہ نہیں رکھوں گی تو ان کا یہ کہنا ہے کہ نہیں میں وہ جگہ تمہارے نام نہیں کروا سکتا یہ ہو نہیں سکتا ۔کیا اس بات سے رشتے پر کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں؟
سوال میں ذکر کردہ بیان اگرواقعۃ درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پرکہ سائلہ کے شوہر نےسائلہ کو پہلے واضح اور صریح الفاظ جیسے "میں تمہیں اپنےہوش وحواس میں طلاق دیتا ہوں" کے ذریعہ ایک طلاق رجعی دیکر عدت کے دوران رجوع کر لیا تھا تو شرعاً یہ رجوع درست ہو چکا تھا اور دونوں کا نکاح حسب سابق برقرار تھا،تاہم آئندہ کیلئے سائلہ کے شوہر کو دو طلاقوں کا اختیار حاصل تھا ،لیکن اس کے بعد جب سائلہ کے شوہر نے سائلہ کی طرف سے مطالبہ طلاق کے جواب میں مذکور الفاظ " میں نے تمہیں فارغ کیا چلی جاؤ "ایک بار کہے ہوں تو اس سے سائلہ پر دوسری طلاق بائن واقع ہوکر میاں بیوی کے درمیان نکاح ختم ہوچکا ہے، جس کے بعد رجوع نہیں ہو سکتا ، اور سائلہ اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے،البتہ اگر دونوں میاں بیوی دوبارہ ایک ساتھ رہنے پر رضامند ہوں تو گواہان کی موجودگی میں نئےحق مہر کے تقرر کے ساتھ تجدید نکاح کر کے ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں ۔
کما فی الھدایۃ: الطلاق على ضربين صريح وكناية فالصريح قوله أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي الخ(باب ایقاع الطلاق،ج 2،ص 61،ط: انعامیہ)۔
وفی ردالمحتار : (قوله توقف الأولان) أي ما يصلح ردا و جوابا و ما يصلح سبا و جوابا و لا يتوقف ما يتعين للجواب بيان ذلك أن حالة الغضب تصلح للرد و التبعيد و السب و الشتم كما تصلح للطلاق، و ألفاظ الأولين يحتملان ذلك أيضا فصار الحال في نفسه محتملا للطلاق و غيره، فإذا عنى به غيره فقد نوى ما يحتمله كلامه و لا يكذبه الظاهر فيصدق في القضاء، بخلاف ألفاظ الأخير: أي ما يتعين للجواب لأنها و إن احتملت الطلاق و غيره أيضا لكنها لما زال عنها احتمال الرد و التبعيد و السب و الشتم اللذين احتملتهما حال الغضب تعينت الحال على إرادة الطلاق فترجح جانب الطلاق في كلامه ظاهرا الخ(ج3 ص301 ط:سعید)۔
وفی الھندیۃ: (وأما حكمه) فوقوع الفرقة بانقضاء العدة في الرجعي وبدونه في البائن كذا في فتح القدير. وزوال حل المناكحة متى تم ثلاثا كذا في محيط السرخسي الخ(ج1 ص348 ط:ماجدیۃ)۔