السلام علیکم! میرے شوہر کے کسی لڑکی کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے، جس کی وجہ سے میں ان کے گھر سے اپنے ماں باپ کے گھر آگئی، اب اس لڑکی نے میرے شوہر پر کیس کردیا اور پریشر دینا شروع کیا کہ مجھ سے نکاح کرو ورنہ میں تم پر زنا کا کیس کردوں گی اور تمہارے ماں باپ کے ساتھ برا سلوک کروں گی اور وہ عورت یہ کرنے پر قادر بھی تھی۔ اس عورت نے مجھے دھمکی دی کہ تمہاری طلاق میں کرواؤں گی، لیکن میرے شوہر نے معافی مانگ لی اور کہا میں طلاق نہیں دینا چاہتا، اس عورت نے تھانے میں مار پڑوائی پھر بھی طلاق نہیں دی، بعد میں اس عورت نے اس صورت میں رہائی کا ماناکہ تم بیوی کو طلاق دو گے۔ اس عورت نے خود تحریری میسیج لکھ کر مجھے واٹس ایپ کیااور میرے شوہر سے وائس میسیج میں یہ بلوایا کہ میں طلاق دیتا ہوں ( تین بار بولا )، لیکن یہ میسیج ان سے پہلے بھی میرے شوہر کی طرف سے یہی کال یا میسیج آیا کہ میں نہیں دینا چاہتا، وہ عورت مجھے دھمکی دے رہی ہے، اگر کچھ بھی ایسا آتا ہے تو میری نیت نہیں ہے۔ ہماری ایک بیٹی ہے اور یہ بات اگست کی ہے۔ مجھے اس بارے میں بتائیں کہ اگر میرے شوہر کی نیت نہیں ہے اور وہ بار بار یہ بھی کہہ رہے تھے کہ نہیں دینی میں نے طلاق، تو کیا زبردستی ایسے کروانے سے طلاق ہوجاتی ہے۔ اللہ پاک نے قرآن میں اور جگہ یہی کہا کہ نیت پر مدار ہے، تو جب ایک بندہ نیت سے مجھے بیوی مانتا ہے اور زبردستی اس سے یہ کروایا جاتا ہے تو کیا طلاق ہوئی؟
واضح ہو کہ جس طرح شریعت نے بعض عبادات کی ادائیگی کےلئے نیت کو ضروری قرار دیا ہے، اسی طرح بعض معاملات ایسے بھی ہیں، جو بلا نیت مزاح میں انجام دیے جائیں یا ان معاملات کے انجام دہی کا باقاعدہ قصد کیا جائے، بہر دو صورت ان کا حکم شرعاً مرتب ہوجاتا ہے، انہی میں سے ایک طلاق بھی ہے، لہٰذا سائلہ کے شوہر نے وائس میسیج میں اگر سائلہ کو ” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں “ جیسے صریح الفاظ تین بار کہہ دیے ہوں، اگرچہ یہ الفاظ بلا نیت اور مذکور عورت کے دباؤ ڈالنے پر کہے ہوں، تب بھی اس طرح کہنے سے سائلہ پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂشرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما فی الھندیۃ: یقع طلاق کل زوج إذا کان بالغا عاقلا سواء کان حرا أو عبدا طائفا أو مکرھا کذا فی الجوھرۃ النیرۃ إلخ۔ ( الباب الأول فی تفسیرہ و رکنہ و شرطہ، فصل فیمن یقع الطلاق و فیمن لا یقع الطلاق، ج 1، ص 353، ط: مجدیۃ )۔
و فی بدائع الصنائع: و أما کون الزوج طائعا فلیس بشرط عند أصحابنا و عند الشافعی شرط حتی یقع طلاق المکرہ عندنا و عندہ لا یقع إلخ۔ ( کتاب الطلاق، فصل و أما شرائط الرکن، ج 3، ص 100، ط: ایچ۔ایم۔سعید )۔
و فیھا أیضا: ( أما ) الطلاق فلقولہ سبحانہ و تعالی فطلقوھن لعدتھن و قولہ علیہ الصلاۃ و السلام کل طلاق جائز إلا طلاق الصبی و المعتوہ و لأن الفائت بالإکراہ إلا الرضا طبعا و إنہ لیس بشرط لوقوع الطلاق إلخ۔ ( کتاب الإکراہ، فصل و أما بیان ما یقع علیہ الإکراہ، ج 7، ص 182، ط: سعید )۔