ایک لڑکا اور ایک لڑکی نے شادی کی۔ کچھ عرصہ بعد ان کے درمیان ناچاقی پیدا ہو گئی اور باہمی تعلقات درست نہ رہے۔ چنانچہ لڑکی نے طلاق کا مطالبہ کیا اور لڑکے نے اس کی خواہش کے مطابق طلاق دے دی۔اب سوال یہ ہے کہ اس صورت میں لڑکا، جس نے نکاح کے وقت اسلامی طریقے کے مطابق حقِ مہر ادا کیا تھا، کیا خلع کی صورت میں وہ حقِ مہر واپس لے سکتا ہے؟ اسی طرح نکاح کے وقت لڑکے نے لڑکی کو کچھ زیورات بھی دیے تھے، جیسے کانوں کے جھمکے وغیرہ، تو کیا خلع کے بعد وہ انہیں واپس لینے کا حق رکھتا ہے؟مزید یہ کہ رشتہ طے ہوتے وقت لڑکی نے شرط رکھی تھی کہ اس کا شوہر گھر داماد بن کر رہے گا، اور لڑکا اس پر راضی ہو گیا تھا۔ اس کے بعد لڑکی کے والد نے اپنے گھر میں سے ایک پلاٹ اپنی بیٹی کو دے دیا، اور لڑکے نے اپنی ذاتی رقم سے اس پلاٹ پر ایک کمرہ تعمیر کیا۔ لیکن اب چونکہ دونوں میں نباہ نہ ہو سکا اور لڑکی کے مطالبے پر لڑکے نے طلاق دے دی، تو کیا لڑکا اس کمرے کی تعمیر پر جو خرچ اس نے اپنی جیب سے کیا تھا وہ واپس لینے کا حق رکھتا ہے؟
صورت مسؤلہ میں سائل کے اندازِ سوال سے معلوم ہو تا ہے کہ لڑکا لڑ کی کے درمیان باقاعدہ عقد خلع یا شادی کے موقع پردیئے گئے تحفے تحائف کی واپسی کے متعلق کوئی بات طے نہیں ہوئی ، بلکہ بیوی نےطلاق کامطالبہ کیا اور شوہر نے اس موقع پر حق مہر یا دیگر تحائف کی واپسی کی شرائط رکھے بغیر طلاق دے دی ، اگر واقعۃً بھی ایسا ہی ہوا ہو تو ایسی صورت میں محض لڑکی کےمطالبہ پر طلاق دینے سےیہ طلاق خلع نہیں کہلائے گی ،بلکہ ایک عام طلاق ہو گی ،جس کے نتیجے میں لڑکا حق مہر یا کسی گفٹ کی ہوئی چیز کی واپسی کے مطا لبہ کا حقدار نہ ہو گا ، البتہ کمرے کی تعمیر پر ہو نے والے اخراجات کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر شوہر نےکمرے کی تعمیر کر کے بیوی کو گفٹ و ہدیہ نہ کیا ہو تو وہ تعمیر شوہر کی ملکیت ہے ،چنانچہ اب اگر بیوی شوہر کو تعمیرات کی قیمت دینے پر رضامند ہو تو ایسی صورت میں شوہر کے لئے قیمت وصول کرنا جائز ہو گا ، لیکن بیوی قیمت دینے پر راضی نہ ہو تو شوہرکو اپنے تعمیرات ہٹا کر منتقل کرنے کا اختیار حاصل ہو گا ،لیکن اگر تعمیرات ہٹانے سے پلاٹ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں تعمیرات کو باقی رکھ کر اس کے ملبے کی حیثیت سے جو قیمت بنے گی شوہر فقط اسی کامستحق ہو گا ۔
وفی مرقاۃ المفاتیح : عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أيما امرأة سألت زوجها طلاقا في غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة» . رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي.اھ ( باب خلع والطلاق ،ج :5 ص:2136 ناشر: بیروت )
وكمافی بدائع الصنائع: {ولا يحل لكم أن تأخذوا مما آتيتموهن شيئا إلا أن يخافا ألا يقيما حدود الله} [البقرة: 229] إلى قوله {فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229] نهى عن أخذ شيء مما أعطاها من المهر واستثنى القدر الذي أعطاها من المهر عند خوفهما ترك إقامة حدود الله على ما نذكر، والنهي عن أخذ شيء من المهر نهي عن أخذ الزيادة على المهر من طريق الأولى كالنهي عن التأفيف أنه يكون نهيا عن الضرب - الذي هو فوقه - بالطريق الأولى.اھ (فصل فی شرائط رکن الطلاق ، ج: 3 ص: 150 ناشر: سعید)
وفی الھندیۃ : إن كان النشوز من قبل الزوج فلا يحل له أخذ شيء من العوض على الخلع وهذا حكم الديانة فإن أخذ جاز ذلك في الحكم ولزم حتى لا تملك استرداده كذا في البدائع.وإن كان النشوز من قبلها كرهنا له أن يأخذ أكثر مما أعطاها من المهر ولكن مع هذا يجوز أخذ الزيادة في القضاء كذا في غاية البيان اھ،(ج:1 فصل فی شرائط الخلع ص : 488 ناشر: المطبعۃ الکبری الامیریۃ)
وفي لسان الحکام : وذكر فقيهنا أبو اسحاق أنه إن أشهد وقت البناء أنه يبني ليرجع عليها كان البناء لها وإن لم يشهد كان البناء لها ولا يرجع عليها بشيء وعلى هذا العمارة في كرمها ،اھ( فصل فی مسائل البیع والملک ص : 411 ناشر :القاہرۃ)