سوال یہ ہے کی یہ بات تو مفتی بہ ہے کی شک سے طلاق واقع نہیں ہوتی ہے ،مگر شک میں دونوں پہلو ہوتے ہیں ،زید کو یہ شک ہے کی دل ہی دل میں طلاق دی ہے یا زبان سے دی ہے،اگر واقع میں دل ہی دل میں دی ہو تو شک کا یہ پہلو صحیح ہے طلاق واقع نہیں ہوگی ،اور شک کا دوسرا پہلو یہ بھی تو ہے کی شاید زبان سے دیدی ہو،،سوال اور غور طلب امر یہ کی اگر حقیقت میں زبان سے دینے کا پہلو صحیح ہو جو کی مرنے کے بعد ہی پتا چالیگا ،اور اُسکے باوجود ساتھ رہنا جسمانی تعلق قائم کرنا اِس پر مواخذہ نہیں ہوگا کیا، اور اُسکے بعد جو بچے ہونگے اُسکا نسب کا کیا حکم ہوگا؟ وضاحت یہ ہے کہ کافی غور فکر اور دماغ پر زور ڈالنے کے باوجود بھی کوئی ایک جانب راجح نہیں ہو سکا ہو کبھی لگتا ہو دل ہی دل میں دی ہے اور کبھی لگتا ہے زبان سے دی مطلب کسی جانب کو ترجیح حاصل نہیں ،برائے مہربانی مسئلہ حل کر دیجئے ،اور جواب ایسا دیجئے کی مزید شک پیدا نا ہو۔
واضح ہوکہ یقین اطمینانِ قلب کی اس کیفیت کو کہا جاتا ہے جس میں کسی قسم کا کچھ تردد نہ ہو ، جبکہ شک وتردداس قلبی کیفیت کا نام ہے جس میں دل دو جہتوں میں سے کسی ایک جہت کواختیار نہ کرسکے، اور اگر دل کسی ایک طرف اس قدرمائل ہوجائے کہ جس سے دوسرے طرف کا خیال چھوٹ جائے لیکن وہ یقین کے درجہ میں نہ ہو تو اسے غالب گمان کہا جاتا ہے ، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کو الفاظ طلاق کے زبانی طور پر ادا کرنے سے متعلق یقین یا غالب گمان نہیں ہے، بلکہ فقط شک ار تردد ہےتو ایسی صورت میں اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ، لہذا بلا وجہ پریشان ہونے یا وساوس میں پڑنے سے اجتناب چا ہیئے۔
کما فی شرح الأشباہ و النظائرتحت: "قولہ الیقین لایزول بالشک"، قیل: لا شک مع الیقین (إلی قولہ) ثم الیقین طمأنینۃ القلب علی حقیقۃ الشئ: یقال: یقن الماء فی الحوض إذا استقر فیہ، و الشک لغۃ مطلق التردد و فی اصطلاح الأصول طرفئ الشئ، و ھو الموقوف بین الشیئین، بحیث لایمیل القلب إلی أحدھما، فإن ترجح أحدھما و لم یطرح الآخر فھو ظن، فإن طرحہ فھو غالب الظن، و ھو بنزلۃ الیقین، و إن لم یترجح فھو وھم ۔الخ۔(غمز عیون البصائر، الفن الأول قول فی القواعد الکلیۃ، ج: 1، ص: 205، ط: دار الکتب العلمیۃ بیروت۔لبان)۔
وفی البدائع: عدم الشك من الزوج في الطلاق وهو شرط الحكم بوقوع الطلاق حتى لو شك فيه، لا يحكم بوقوعه حتى لا يجب عليه أن يعتزل امرأته؛ لأن النكاح كان ثابتا بيقين ووقع الشك في زواله بالطلاق فلا يحكم بزواله بالشك كحياة المفقود،(إلی قولہ) والأصل في نفي اتباع الشك قوله تعالى {ولا تقف ما ليس لك به علم} [الإسراء: 36] ، وقوله عليه الصلاة والسلام لما سئل عن الرجل يخيل إليه أنه يجد الشيء في الصلاة - «لا ينصرف حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا» اعتبر اليقين وألغى الشك ثم شك الزوج لا يخلو: إما أن وقع في أصل التطليق أطلقها أم لا؟ وإما أن وقع في عدد الطلاق وقدره؛ أنه طلقها واحدة أو اثنتين أو ثلاثا، أو صفة الطلاق أنه طلقها رجعية أو بائنة فإن وقع في أصل الطلاق لا يحكم بوقوعه لما قلنا، وإن وقع في القدر يحكم بالأقل الخ۔ (فصل في الرسالة في الطلاق، کتاب الطلاق ، ج: 3، ص: 126، ط:سعید)۔
وفی الدر: علم أنه حلف ولم يدر بطلاق أو غيره لغا كما لو شك أطلق أم لا. ولو شك أطلق واحدة أو أكثر بنى على الأقل الخ (مطلب الانقلاب والاقتصار والاستناد والتبيين، کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 283، ط: سعید)۔
وفی الأشباہ: الشك تساوي الطرفينوالظن الطرف الراجح وهو ترجيح جهة الصواب والوهم رجحان جهة الخطأوأما أكبر الرأي وغالب الظن فهو الطرف الراجح إذا أخذ به القلب، وهو المعتبر عند الفقهاء كما ذكره اللامشي في أصوله الخ۔ ( الفائدۃ الثانیۃ ص: 63، ط: دارالکتب العلمیۃ)۔