السلام علیکم مفتی صاحب!
میری شادی کو تقریباً 16 سال ہوچکے ہیں۔اس دوران میرے شوہر سے کئی بار لڑائی جھگڑے ہوئے۔ اور ہر بار انھوں نے مجھے طلاق دی۔ کئی بار بولا کہ" میں تمیں طلاق دیتا ہوں" اور کبھی کہتے تھے کہ "میں تمہں طلاق دے رہا ہوں" اور کبھی کہتے تھے "میں تمہیں طلاق دے چکا ہوں"۔ اور پچھلے ہفتے 20 یا 22 اکتوبر 2024 کے دوران لڑائی ہوئی اور دو مرتبہ طلاق دے دی اور آدھی رات کو گھر سے نکال دیا۔
میرے شوہر کےگھر والے ہمیشہ لڑائی کے بعد یہی کہتے تھے کہ اس نے غصہ میں ایسا بول دیاہے اس سے کچھ نہیں ہوتا اور پھر ہم دونوں ساتھ رہنے لگتے۔ لیکن میرے شوہر یہ کہتے تھے کہ انہوں نے طلاق دے دی ہے، اب ساتھ رہنا ناجائز ہے ۔
مفتی صاحب۔ میں زیادہ پڑھی ہوئی نہیں ہوں اور نہ ہی شرعی مسائل جانتی ہوں۔ آپ سے فتویٰ درکار ہے کہ میں اب کیا کروں؟ اب بھی میرے شوہر کے گھر والے مجھے بلا رہے ہیں، اور معاف کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ میں کیا کروں ؟ کیا واپس شوہر کے پاس چلی جاؤں یا ہماری طلاق ہوچکی ہے۔ اور اگر طلاق ہوچکی ہے تو میری طلاق کی عدت کیا ہوگی اور کب سے شروع ہوگی۔
جزاک اللہ خیرا
واضح ہو کہ غصہ کی حالت میں دی گئی طلاق بھی شرعاً واقع ہوجاتی ہے ،لہذاسائلہ کابیان اگرواقعۃًدرست اورمبنی برحقیقت ہوتواس کاشوہرجب تین سے زائدمرتبہ طلاق دے چکاہے،توسائلہ پرشوہرکےپہلی مرتبہ تین طلاق دینے سے ہی حرمت مغلظہ ثابت ہوگی تھی ،اس کےبعدوہ دونوں میاں بیوی کی حیثیت سےجتناعرصہ اکٹھے رہےوہ شرعاناجائزاورحرام کے زمرے میں آتاہے،جس پردونوں کو بصدق دل توبہ واستغفارکرتےہوئے آئندہ کے لیے ایک دوسرے علیحدگی برقراررکھیں ،اب سائلہ کے لیے حلالہ شرعیہ کے بغیرشوہرسے رجوع کی گنجائش نہیں اورعدت گزارنے کے بعدوہ کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزادہوگی جبکہ سائلہ کی عدت کادورانیہ آخری مرتبہ شوہرسے جدائی کے وقت سےشروع ہوگاجواس کے بیان کے مطابق20یا22اکتوبرہے،اس تاریخ کے بعدآنے والی تین ماہواریاں عدت شمارہوگئیں۔
قال الله تعالی:"فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ(البقرة:230)
کمافی الھندیۃ:وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية. ((473/
کمافی الدرالمختار:(ومبدأ العدة بعد الطلاق و) بعد (الموت) على الفور (وتنقضي العدة وإن جهلت) المرأة (بهما) أي بالطلاق والموت لأنها أجل فلا يشترط العلم بمضيه سواء اعترف بالطلاق، أو أنكر."( 526/1،ط:دارالفكربيروت)
وفیہ الجوہرۃالنیرۃ:(قوله وابتداء العدة في الطلاق عقيب الطلاق وفي الوفاة عقيب الوفاة فإن لم تعلم بالطلاق أو الوفاة حتى مضت العدة فقد انقضت عدتها) ؛ لأن العدة هي مضي الزمان فإذا مضت المدة انقضت العدة."( 78/2،ط:المطبعة الخيرية)