میں نے سنا ہے کہ نماز فجر کی سنت اور فرض کے درمیان 41 دفعہ سورتِ فاتحہ پڑھنے سے بیماری دور ہوجا تی ہے ، کیا یہ صحیح ہے ؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں بتائیں ۔جزاک اللہ
قرآن وحدیث میں سورتِ فاتحہ کے بہت سارے فضائل وارد ہوئے ہیں، منجملہ ان میں سے سورتِ فاتحہ کا آیت شفاء ہونا بھی ہے ، اس لئے کسی بیماری کی شفاء یا ضرورت کی تکمیل کیلئے اس کا ورد کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے، جبکہ سائلہ نے بیماری کی دوری کے لئے سورۃ فاتحہ پڑھنے کی جو ترتیب سوال میں ذکر کی ہے ، اس ترتیب سے پڑھنا قرآن و سنت میں تو منقول نہیں ، البتہ بزرگانِ دین و مشائخ کے مجربا ت میں سے ہے ، اس لئے اس ترتیب پر یہ وظیفہ پڑھنے سے شرعاً کوئی حرج نہیں ۔ چنانچہ شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمۃ اللہ تحریر فرماتے ہیں کہ:
''سورۃ الفاتحہ اسم اعظم ہے ہر مطلب کے لئے پڑھنی چاہیئے ، اور اس کے دو طریقہ ہیں ، ایک یہ ہے کہ صبح کی سنت اور فرض کے درمیان ﷽بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے میم کے ساتھ الحمد للہ کا لام ملا کر اکتالیس بار چالیس دن تک پڑھے جو مطلب ہوگا ان شاء اللہ حاصل ہوگا ، اور اگر کسی مریض یا جادو کئے ہوئے کے لئے ضرورت ہو تو پانی پر دم کرکے اس کو پلاؤ ۔ دوسر ا یہ ہے کہ نو چندی اتوار کو صبح کی سنت اور فرض کے درمیان بلا قید میم ملانے کے ستّر بار پڑھے اور اس کے بعد ہر روز اسی وقت پڑھے اور دس دس بار کم کرتا جاوے یہاں تک کہ ہفتہ ختم ہوجائے اگر او ل مہینہ میں مطلب پورا ہوجاوے فبہا ورنہ دوسر ے ےتیسرے مہینہ میں اسی طرح کرے ، نیز اس سورت کا چینی کے برتن پر گلاب اور مشک و زعفران سے لکھ کر اور دھو کر پلانا چالیس روز تک امراضِ مزمنہ (یعنی پرانے امراض ) کے لئے مجرب ہے الخ'' (مأخوذ از فضائل اعمال ، فضائلِ قرآن ، ص:426، ط: کتب خانہ فیضی )۔