السلام علیکم
میں کینیڈا کا شہری ہوں اور کچھ عرصے سے یہاں رہ رہا ہوں۔ میں نے اپنے والدین کی مرضی کے خلاف پاکستان میں ایک لڑکی سے شادی کی۔ میری بیوی کے والدین راضی تھے لیکن بھائی نہیں۔ میں نے یہ امیگریشن پیپر ورک شروع کرنے کے لیے کیا تھا اور امیگریشن کے کاغذات موصول ہونے کے بعد اپنے والدین کو بتانے کا ارادہ کر رہا تھا۔ ایک بھائی نے ساری بات میرے والدین کو بتائی اور میرے والدین مجھے اسے چھوڑنے کی ضد کرنے لگے اور دھمکانے لگےـ ان کے ساتھ بڑی بحث کے بعد دو گواہوں کو تیار کر کے والدین سے جھوٹ بولنے کا منصوبہ بنایا کہ میں نے اسے طلاق دے دی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میں جھوٹ بولتا رہا یہاں تک کہ 3 ماہ گزر گئے اور میرے پاس پھر مزید جھوٹ بولنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ امیگریشن کا عمل جاری رکھنے کے لیے شادی ختم ہو چکی ہے۔ مجھے حال ہی میں بتایا گیا کہ مجھے معلوم کرنا ہوگا کہ ایسی حالت میں شادی ابھی تک برقرار ہے یا طلاق بائن ہوئی ہے۔ میں نے اپنی بیوی کو کبھی طلاق نہیں دی، میں نے صرف کاغذی کارروائی کو ٹھیک رکھنے کے لیے کئ بار جھوٹ کا سہارا طلاق کی یا رشتہ ختم ہونے کی جھوٹی خبرکا سہارا لیا۔ رہنمائ فرمائیں
واضح ہو کہ مفتی غیب نہیں جانتا ، بلکہ وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے ، جبکہ سوال کے سچ یا جھوٹ ہونے کی ذمہ داری سائل پر عائد ہوتی ہے ، لہذا سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اور اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائل نےمحض والدین کومطمئن کرنے کے لیےماضی میں طلاق دینےکاجھوٹااقرارکیاہواوراس پردوآدمیوں کوگواہ بھی بناچکاہو(جیساکہ سوال سےبھی واضح ہوتاہے) تو اس جھوٹے اقرارسے سائل کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوئی ، بلکہ میاں بیوی کا نکاح بدستور برقرار ہے اور وہ دونوں ایک ساتھ زندگی بسر کر سکتے ہیں ۔
كما في رد المحتار : تحت ( قوله أو هازلا) نقل عن البزازية و القنية : لو أراد به الخبر عن الماضي كذبا لا يقع ديانة وإن أشهد قبل ذلك لا يقع قضاء أيضا (3/238، ط : سعيد)
وفی البحرالرائق :وصرح في البزازية بأن له في الديانة إمساكها إذا قال أردت به الخبر عن الماضي كذبا، وإن لم يرد به الخبر عن الماضي أو أراد به الكذب أو الهزل وقع قضاء وديانة واستثنى في القنية من الوقوع قضاء ما إذا شهد قبل ذلك لأن القاضي يتهمه في إرادته الكذب فإذا أشهد قبله زالت التهمة، والإقرار بالعتق كالإقرار بالطلاق وقيده البزازي بالمظلوم إذا أشهد عند استحلاف الظالم بالطلاق الثلاث أنه يحلف كاذبا قال يصدق في الحرية، والطلاق جميعا وهذا صحيح اهـ. (3/ 264)