اگر بینک اس شرط پر قرضہ دے کہ آپ 12 مساوی اقساط میں ادائیگی کر سکتے ہیں اور واضح طور پر معاہدے میں موجود ہو کہ سود٪ 0ہو گا ،مگر بینک پراسیسنگ فیس٪ 3 یا ٪4 ہوگی۔ایسی صورت میں بینک سے معاہدہ کرنا کیسا ہو گا؟
صورت مسئولہ میں اگر بینک کسی کو اس شرط پر قرض دیتا ہے کہ وہ رقم 12 مساوی اقساط میں واپس کرے گا، اور معاہدے میں واضح طور پر ذکر ہو کہ اس پر کوئی سود نہیں ہوگا، تو بظاہر یہ معاملہ جائز ہو سکتا ہے۔ بشرطیکہ بینک پراسیسنگ فیس حقیقی اخراجات وخدمات کے بقدر وصول کی جائے اور وہ فیصد کی بجائے ایک متعین رقم کی صورت میں ابتداً طے کرلی جائےاور اگر مذکور فیس محض فرضی اور اندازوں پر فیصد کی صورت میں طے ہو تو یہ بھی سود کے زمرے میں داخل ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہوگا،اور ایسا معاملہ بھی سودی ہی کہلائےگا جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی بحوث فقهيه: وعلى هذافان مصدر البطاقة لا يعدو تجاه حاصل البطاقة من ان يكون محتالا عليه اولاً ، ثم مقرضا له عند ما يسدد دينه الى التاجر فالجائز التي يقدمها مصدر البطاقة الى حاملها هي جائزة من قبل المقرض الى المستقرض، فهو تبرع محض لا قمار فيها ولا ربا الخ (احکام الجوائز، ج: 2، ص: 164، ط: دارالعلوم کراچی)۔
وفی الشامیۃ: قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوی: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز فجوزوه لحاجة الناس الخ (باب الإجارۃ الفاسدۃ، ملطب فی أجرۃ الدلال، ج: 6، ص: 63، ط: ایچ ایم سعید)۔