امامت و جماعت

فرض نماز اکیلا شروع کرنے کے بعد اگر جماعت کھڑی ہوجائے تو کیا حکم ہے

فتوی نمبر :
79482
| تاریخ :
2024-11-22
عبادات / نماز / امامت و جماعت

فرض نماز اکیلا شروع کرنے کے بعد اگر جماعت کھڑی ہوجائے تو کیا حکم ہے

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !جی میرا سوال یہ ہے کہ ایک بندہ مسجد میں آیا اور اس کو پتہ نہیں چلا کہ فرض نماز کی جماعت ہو نی ہے یا ہو چکی ہے تو اس نے اپنی فرض نماز پڑھنا شروع کر دی ساتھ میں ہی فرض نماز کی جماعت کھڑی ہو گئی تو اب وہ اکیلا فرض نماز پڑھے گا یا جماعت کے ساتھ مل کر فرض پڑھے گا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں مذکور شخص اگر اپنی فرض نماز کی پہلی رکعت پڑھ رہا ہو اور جماعت کھڑی ہو گئی تو ایسی صورت میں وہ فوری طور پر اپنی نماز توڑ ہ کر جماعت میں شامل ہوجائے اور اگر پہلی رکعت پڑھ چکاہو تو دو رکعت پر سلام پھیر کر جماعت میں شامل ہوجائے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی رد المحتار: تحت (قوله وهذا إن لم يقيد إلخ) حاصل هذه المسألة: شرع في فرض فأقيم قبل أن يسجد للأولى قطع واقتدى، فإن سجد لها، فإن في رباعي أتم شفعا واقتدى ما لم يسجد للثالثة، فإن سجد أتم واقتدى متنفلا إلا في العصر، وإن في غير رباعي قطع واقتدى ما لم يسجد للثانية، فإن سجد لها أتم ولم يقتد الخ(ج2 ص52 ط:سعید)۔
وفی الھندیۃ: (الباب العاشر في إدراك الفريضة) إن صلى ركعة من الفجر أو المغرب فأقيم يقطع ويقتدي وكذا يقطع الثانية ما لم يقيدها بالسجدة وإذا قيدها بها لم يقطعها وإذا أتمها لم يشرع مع الإمام لكراهة النفل بعد صلاة الفجر ولما فيه من الإتيان بالوتر في النفل بعد المغرب أو مخالفة إمامه، كذا في التبيين(الی قولہ) ومن صلى ركعة من الظهر ثم أقيمت يصلي ركعة ثم يدخل مع الإمام وإن لم يقيد الأولى بالسجدة يقطع ويشرع مع الإمام هو الصحيح، كذا في الهداية أراد بالإقامة شروع الإمام في الصلاة لا إقامة المؤذن فإنه لو أخذ المؤذن في الإقامة والرجل لم يقيد الركعة الأولى بالسجدة فإنه يتم بالركعتين بلا خلاف بين أصحابنا، كذا في النهاية الخ(ج1 ص119ط:ماجدیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حذیفہ حسن عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 79482کی تصدیق کریں
0     440
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات