کیا فرماتے ہیں علماءے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ہاں پنجاب میں کسانوں کو جب پیسوں کی ضرورت پڑتی ہے، تو وہ کسی سے رقم لے لیتے ہیں ،اور اس سے معاہدہ یہ کرتے ہیں کہ ہم آپ کو موسم میں مثلاً سومن گندم دے دیں گے ،اور یہ یاد رہے کہ کسان اس وقت اپنی ضرورت پوری کرنے کیلئے جو رقم لیتے ہیں، وہ موسم میں گندم کے ریٹ سے بہت کم ہوتی ہے، مثلا گندم کی قیمت ایک من کی موسم میں تین چار سو ہوتی ہے تو وہ پیشگی جب لیتے ہیں ،وہ دو سویا ڈھائی سو کے حساب سے لیتے ہیں۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں جب کسان پوری رقم پیشگی لے لیتا ہے، اور گندم کا وزن بھی متعین ہوتا ہے کہ دو سو من یا تین سو من، کیا اس صورت میں پیشگی رقم لینا اور دینا جائز ہے ؟ آیا یہ سود کے زمرے میں تو نہیں آئیگا ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دے کر عند اللہ ماجور ہوں۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور معاملہ شرعاً بیع سلم کا ہے، جس میں درجِ ذیل آٹھ شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، ورنہ یہ معاملہ شرعاً درست نہیں رہیگا۔
(1) خریدی جانے والی چیز کی جنس معلوم ہو ( مثلاً گندم ہے یا جو ) (۲) وصف معلوم ہو ( اعلیٰ قسم کی گندم ہے یا متوسط یا ادنی)، (۳) نوع معلوم ہو ( فلاں قسم کی گندم ہے)، (۴) مقدار معلوم ہو (کتنے من وغیرہ گندم ہے) (۵) وصولی کا دن، مہینہ اور تاریخ مقرر ہو۔ (۶) ادا شدہ رقم کی مقدار معلوم ہو۔ (۷) یہ بھی طے ہو جائے کہ خریدار گندم کہاں سے وصول کرےگا۔ (۸) جانبین کے جدا ہونے سے پہلے مجلس عقد میں پوری رقم ادا ہو جائے۔
ففي الهداية شرح البداية: قال ولا يصح السلم عند أبي حنيفة رحمه الله إلا بسبع شرائط جنس معلوم كقولنا حنطة أو شعير ونوع معلوم كقولنا سقية أو بخسية وصفة معلومة كقولنا جيد أو رديء ومقدار معلوم كقولنا كذا كيلا بمكيال معروف وكذ وزنا وأجل معلوم والأصل فيه ما روينا والفقه فيه ما بينا ومعرفة مقدار رأس المال إذا كان يتعلق العقد على مقداره كالمكيل والموزون والمعدود وتسمية المكان الذي يوفيه فيه إذا كان له حمل ومؤنة (إلی قوله) ولا يصح السلم حتى يقبض رأس المال قبل أن يفارقه فيه اھ (3/ 74،73)-
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1