کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمی اختر نے گھریلو ناچاقی اور لڑائی جھگڑے کے دوران اپنی بیوی کو طلاق کے الفاظ بولے ہیں، لیکن میں غصہ کی حالت میں تھا، مجھے صحیح سے یاد نہیں کہ میں نے تین مرتبہ طلاق کے الفاظ بولے تھے یا دو مرتبہ اور میں دو مرتبہ کے الفاظ بولنے پر حلفیہ بیان بھی نہیں دے سکتا، الفاظ طلاق یہ تھے "تہ پہ ما طلاقہ ئے/تم مجھ پر طلاق ہو" بیوی مسماۃ زینت کا بیان ہے کہ مجھے ڈر اور پریشر کی وجہ سے کچھ بھی سننا یاد نہیں ہے کہ اس نے کیا الفاظ بولے ہیں اور کتنی مرتبہ بولے ہیں، جبکہ موقع پر موجود بیٹا احمد عمر 19 سال اور بیٹی کوثر عمر 17 سال کا بیان یہ ہے کہ والد صاحب نے تین مرتبہ طلاق کے الفاظ بولے ہیں"تہ پہ ما طلاقہ ئے"
اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں اور اب ہمارے لئے کیا حکم ہے، نیز اس کے جواب میں تین طلاق کا تفصیلی فتوی چاہیئے کہ تین طلاقیں تین ہی ہوتی ہیں۔
مفتی غیب نہیں جانتا وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے، سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی ذمہ داری سوال کرنے والے پر عائد ہوتی ہے، اس مختصر سی تمہید کے بعد واضح ہو کہ سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق اگر سائل مسمی اختر کو واقعۃً طلاق کے الفاظ دو یا تین دفعہ کہنے میں ترد ہے، تو شرعاً سائل کی بیوی پر دو طلاقیں تو بہر حال واقع ہوچکی ہیں، البتہ اگر تیسری دفعہ طلاق کے الفاظ کہنے میں سائل کو یقین یا غالب گمان نہ ہو، اسی طرح سائل کی بیوی کو بھی اس کے متعلق کچھ یاد نہ ہوتو ایسی صورت میں اگر چہ تیسری طلاق واقع ہونے کا حکم نہیں لگایا جائے گا، البتہ اگر میاں بیوی کو اپنے بیٹے اور بیٹی کی بات کے سچے ہونے کا یقین یا غالب گمان ہو تو انہیں ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح رہنے کے بجائے علیحدگی اختیار کرنی چاہیئے۔
کما فی الأشباہ والنظائر: ومنها: شك هل طلق أم لا لم يقع. شك أنه؛ طلق واحدة، أو أكثر، بنى على الأقل كما ذكره الإسبيجابي إلا أن يستيقن بالأكثر، أو يكون أكبر ظنه على خلافه (ص:۵۲،قاعدۃ من شک ھل فعل ام لا ،دار الکتب العلمیۃ)۔
و فی الدر المختار و حاشیۃ ابن عابدین: علم أنه حلف ولم يدر بطلاق أو غيره لغا كما لو شك أطلق أم لا. ولو شك أطلق واحدة أو أكثر بنى على الأقل.
(قوله بنى على الأقل) أي كما ذكره الإسبيجابي، إلا أن يستيقن بالأكثر أو يكون أكبر ظنه (ج3، ص283، ط۔سعید)۔
و فی الھندیۃ: ومنها الشهادة بغير الحدود والقصاص وما يطلع عليه الرجال وشرط فيها شهادة رجلين، أو رجل وامرأتين سواء كان الحق مالا، أو غير مال كالنكاح والطلاق والعتاق والوكالة والوصاية ونحو ذلك مما ليس بمال كذا في التبيين.(ج3، ص451)۔