میزان بینک گاڑی دے رہا ہے اجارہ کار کے نام سے، اور کہتے ہیں کہ اگر پلنٹی لگتی ہے، آپ کے پیسے ہم خیرات کرتے ہیں، تو کیا اس سے کار لینا جائز ہے؟
ہماری معلومات کے مطابق میزان بینک فی الحال مستند مفتیان کرام پر مشتمل شریعہ بورڈ کی زیر نگرانی اپنے تمام مالی معاملات سرانجام دے رہا ہے، لہذا اس کے ساتھ اجارہ یا مرابحہ مؤجلہ کر کے کار کی خریداری یا کرایہ داری کا معاملہ کیا جاسکتا ہے، تاہم ایسی صورت میں وقتِ مقرر پر قسط یا کرایہ جمع کرانے کا اہتمام کرنا چاہیے، بلاوجہ تاخیر سے بچنا چاہیے، جبکہ تاخیر کی وجہ سے جو رقم پلنٹی کے طور وصول کی جاتی ہے وہ شرعاً سود نہیں، بلکہ فقہی لحاظ سے التزام بالتصدق ہے ، جس کی گنجائش ہے۔
کما فی فقہ البیوع: ویجب لصحتہ ان یکون الاجل معلوماً، فإن کان الأجل فیہ جھالۃ تفضی إلی النزاع، فسد البیع، والأصل فیہ قول اللہ سبحانہ و تعالی فی القرآن الکریم" يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَاكْتُبُوهُ"(سورۃ البقرۃ:282)( الی قولہ) و الظاھر أن ھذا الاختلاف مرجعۃ إلی معلومیّۃ مواعید الحصاد والجزاز والعطاء، فإن کان معلوماً فی الجملۃ بحیث لایقع فیہ نزاع، جاز التّأجیل إلیھا وإلاّ لم یجز الخ (ج1 ص538 معلومیۃ الأجل رقم 247 ط معارف القرآن کراچی)۔
و فیہ ایضاً: و أما المستند الشرعیّ لھذا الالتزام، فإن الالتزام جائز عند جمیع الفقھاء و إن مثل ھذا التبرّع یلزم فی القضاء أیضاً عند بعض المالکیۃ، والأصل عند المالکیۃ أن الالتزام إن کان علی وجہ القربۃ، فإنہ یلزم الملتزم فی القضاء باتفاق علمائھم، أما إذا کان الالتزام علی وجہ الیمین، بمعنی أن یکون معلقاً علی أمر یرید الملتزم الامتناع عنہ، ففی لزومہ فی القضاء خلاف، فذھب بعضھم إلی أنہ لایقضی بہ فی الحکم، وخالفھم آخرون، فجعلوہ لازماً فی القضاء،(الی قولہ) ھذا علی قول بعض المالکیۃ، أما علی أصل الحنفیۃ فإن الوعد غیر لازم فی القضاء، و لکن صّرح فقھاء الحنفیۃ بأن بعض المواعید قد تجعل لازمۃ لحاجۃ الناس، فعلی ھذا الأساس أرجو أن ھناک مجالاً للقول بلزوم ھذا التّبرع المقترح، سدّاً لباب المُماطلۃ، وصیانۃ لحقوق الناس عن اعتداء المعتدین، واللہ سبحانہ و تعالی أعلم الخ (1/45 خامساً: حلول البیع بالتقصیر فی أداء بعض الأقساط ط معارف القرآن کراچی)۔