طلاق

نکاح نامہ کے تفویض طلاق کی شق کاتفصیلی حکم

فتوی نمبر :
80077
| تاریخ :
2024-12-19
معاملات / احکام طلاق / طلاق

نکاح نامہ کے تفویض طلاق کی شق کاتفصیلی حکم

اگر نکاح کے وقت شق نمبر 18 کے تحت یہ الفاظ لکھے ہوں ”تمام اختیارات بلا کسی شرط کے دلہن کو دے دیے گئے ہیں“ تو کیا عورت خود کو طلاق دے سکتی ہے؟ اور کیا گواہ کا ہونا ضروری ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اصل سوال کا جواب دینے سے قبل بطور تمہیدچند باتوں کا جاننا ضروری ہے:
اولاً : یہ جان لینا چاہئیے کہ تفویض کے معنی سپرد کرنے کے ہیں اور کسی چیز کے سپرد کرنے کا حق اس شخص کو ہوتا ہے جس کے پاس وہ حق موجود ہو ، یہ معاملہ چونکہ طلاق سے متعلق ہے اور طلاق کا اختیار شر عاً مرد کو حاصل ہوتا ہے ، اسلئے اگر بوقت ضرورت شوہر اپنی بیوی کو طلاق کا یہ اختیار سپرد کر دے تو بیوی کے پاس بھی اپنے اوپر طلاق واقع کرنے کا اختیار اور قوت آجاتی ہے اور یہ قوت شوہر کے اختیار دینے پر منحصر ہے ، چنانچہ وہ ایک طلاق کا اختیار دے تو ایک، دو کا اختیار دے تو دو اور اگر تین طلاقوں کا اختیار اسے دے تو وہ تین طلاقیں بھی اپنے اوپر واقع کر سکتی ہے ، اسی طرح اگر وہ طلاق رجعی کا اختیار دے تو طلاق رجعی کا اور اگر بائن کا اختیار دے تو بیوی کو بھی اپنے اوپر طلاق بائن واقع کرنے کا اختیار حاصل ہو جاتا ہے۔ البتہ اگر شوہر نے مطلق طلاق کا اختیار سپر د کر دیا ہو تو بیوی کتنی طلاقیں اپنے اوپر واقع کر سکتی ہے ، اس کا مدار شوہر کی نیت پر ہے ، اس نے جتنی کی نیت کی ہو، بیوی کو بھی اتنی ہی طلاقوں کا اختیار ہو گا ، اگر شوہر کی کوئی نیت نہ تھی تو بیوی کو فقط ایک طلاق رجعی کا اختیار حاصل ہو گا۔ (کمافی الہندیۃ)
ثانياً : پھر مطلقا ً اختیار دینے کی صورت میں یہ اختیار اسی مجلس تک ہی محدود ہوتا ہے جس میں اختیار دیا گیا یا جس مجلس میں بیوی کو اس اختیار کا علم ہوا، اگر اسی مجلس میں اس نے یہ اختیار استعمال کرتے ہوئے اپنے اوپر طلاق واقع کر دی تو بہتر ، ور نہ مجلس بدل جانے کے ساتھ ہی یہ اختیار بھی ختم ہو جائے گا، الا یہ کہ ”الفاظ تفویض “ میں ایسا عموم ہو جو ہمیشہ یا کسی خاص لمبی مدت تک کیلئے اختیار باقی رہنے پر دلالت کرتے ہوں، مثلاً یوں کہہ دیا جائے کہ بیوی کو اختیار ہے کہ ”جب تک ہمارا نکاح قائم ہے، اس دوران جس وقت بھی چاہے “یا ” ایک ماہ تک جب بھی چاہے ” اپنے اوپر طلاق واقع کرے “ تو پہلی صورت میں جب تک یہ نکاح برقرار ہے، اس وقت تک ہمیشہ اور دوسری صورت میں ایک ماہ تک یہ اختیار رہے گا، اس مجلس کے ساتھ مقید نہ ہو گا۔
اسی طرح اگر شوہر نے مطلقاً ”طلاق صریح “ کا اختیار دیا ہو ( اس میں وہ تمام الفاظ شامل ہیں جس سے رجعی طلاق واقع ہوتی ہے ) تو بیوی کو طلاق بائن واقع کرنے کا اختیار نہیں، اور نہ ہی بیوی کے کسی کنائی لفظ استعمال کرنے سے اس پر طلاق واقع ہو گی۔
ثالثا: یہ جاننا چاہیے کہ طلاق کا یہ اختیار تفویض کرنے کی تین (3) صورتیں ہیں:
(۱) نکاح سے قبل تفویض : اس کیلئے شرط یہ ہے کہ نکاح کی طرف اس کی نسبت کی جائے ، مثلاً یوں لکھ دیا جائے کہ ”اگر میں فلاں بنت فلاں سے نکاح کروں تو ۔۔ الخ “ اگر نکاح کی طرف اسکی اضافت اور نسبت کیے بغیر مطلقاً تفویض کیا گیا تو یہ شرعاً غیر معتبرہوگا۔
(۲) ایجاب و قبول کراتے وقت تفویض : اس کیلئے شرط یہ ہے کہ ایجاب عورت کی طرف سے ہو اور وہ خود یا اس کا ولی ایجاب کے دوران ہی اس تفویض کی شرط لگائے اور پھر شوہر قبول کے الفاظ بولے ، اگر ایسا نہ کیا گیا ،بلکہ پہلے شوہر نے ایجاب کے الفاظ بولے جس میں تفویض کا کوئی ذکر نہ کیا ہو اور پھر عورت کی طرف سے تفویض کی شرط کے ساتھ قبول ہوا ہو تو اس تفویض کا بھی شرعاً کوئی اعتبار نہیں۔
(۳) نکاح کے بعد تفویض: اس کی صورت یہ ہے کہ نکاح کے بعد شوہر اپنی مرضی سے طلاق کا اختیار اپنی بیوی کو سپرد کر دے تو اس سے بھی یہ اختیار بیوی کو حاصل ہو جاتا ہے۔
جبکہ جو نکاح نامہ، نکاح کے بعد بنتا ہے، اس میں تفویض کے خانہ میں ”ہاں “ لکھ دینے سے بھی یہ اختیار بیوی کے سپر د ہو جاتا ہے، اسلئے ”تفویض “ کے مطلب کو خوب سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے ، تاہم اس صورت میں یہ اختیار کتنی طلاقوں کا اور کب تک ہو گا اس کا دارو مدار تفویض کے الفاظ پر ہے جس کی تفصیل گزر چکی ، اگر کوئی بھی لفظ نہ بولا ہو،بلکہ صرف ” ہاں“ ہی لکھ دیا ہو تو وہ اسی مجلس تک محدود ہوگا۔
رابعاً: ایک بار طلاق کا اختیار تفویض کرنے کے بعد شوہر اس سے رجوع نہیں کر سکتا۔
خامساً: اگر طلاق نامہ میں تفویض کے خانہ میں شوہر کے اولیاء نے اس کےعلم میں لائے بغیر ” ہاں“ لکھ دیااور شوہر نے اسے پڑھے بغیر اس پر دستخط کر دیا ہو تو یہ تفویض شرعاً غیر معتبر ہو گی، چنانچہ مذکورہ بالا تفصیل کے بعد اصل سوال کا جواب یہ ہےکہ اگر مذکور بالا بنیادی شرائط کے مطابق شوہر نے اپنے نکاح کےوقت واقعی نکاح نامہ کے 18 نمبر شق ”تفویضِ طلاق“ کے خانہ میں طلاق کے تمام اختیارات ( جب چاہےاورجتنا طلاق چاہے،اور شوہرکی نیت بھی یہی تھی ) کے ساتھ بلاکسی شرط کے اپنے مکمل ہوش و حواس ، دیدہ دانستہ اور رضامندی سے دستخط کیا ہو تو ایسی صورت میں بیوی کیلئے شوہر کی طرف سے تفویض کردہ اختیار کے تحت اپنی ذات پر جب چاہے طلاق واقع کرنےکا شرعی جواز حاصل ہے، البتہ تفویض ِ طلاق کو بلاوجہ غلط استعمال کرنے کی صورت میں احادیث ِ مبارکہ میں وارد شدہ شدید ترین وعیدوں کا سامناہوگا۔
جبکہ وقوع طلاق کے لیے شرعاً گواہوں کا ہونا ضروری نہیں ،بلکہ گواہوں کے بغیر بھی طلاق واقع ہوجاتی ، البتہ احتیاط اور قانونی تحفظات کی خاطر گواہوں کی موجودگی میں اس جیسے حساس معاملہ کو سر انجام دینا مستحب ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافي الدر المختار: لما ذكر ما يوقعه بنفسه بنوعيه ذكر ما يوقعه غيره بإذنه، وأنواعه ثلاثة: تفويض، وتوكيل، ورسالة وألفاظ التفويض ثلاثة: تخيير وأمر بيد، ومشيئة، (قال لها اختاري أو أمرك بيدك ينوي) تفويض (الطلاق) لأنها كناية فلا يعملان بلا نية (أو طلقي نفسك فلها أن تطلق في مجلس علمها به) مشافهة أو إخبارا (وإن طال) يوما أو أكثر ما لم يوقته ويمضي الوقت قبل علمها (ما لم تقم) لتبدل مجلسها حقيقة (أو) حكما بأن (تعمل ما يقطعه) مما يدل على الإعراض لأنه تمليك فيتوقف على قبول في المجلس لا توكيل، فلم يصح رجوعه، (ألی قولہ) (لا) تطلق (بعده) أي المجلس (إلا إذا زاد) في قوله طلقي نفسك وأخواته (متى شئت أو متى ما شئت أو إذا شئت أو إذا ما شئت) فلا يتقيد بالمجلس (ولم يصح رجوعه) لما مر، الخ
وفی الرد: تحت باب تفويض الطلاق؛ أي تفويضه للزوجة أو غيرها صريحا كان التفويض أو كناية، يقال: فوض له الأمر: أي رده إليه حموي، فالكناية قوله اختاري أو أمرك بيدك، والصريح قوله طلقي نفسك أبو السعود (کتاب الطلاق،باب تفويض الطلاق،ج 3،ص 314-317،ط: ایچ ایم سعید)-
وفيه ايضاً : تحت(قوله: قال لها اختاري (أشار بعدم ذكر قبولها إلى أنه تمليك يتم بالمملك وحده فلو رجع قبل انقضاء المجلس لم يصح ، وقيد باقتصاره على التخيير المطلق لأنه لو قال لها اختاري الطلاق فقالت اخترت الطلاق فهي واحدة رجعية لأنه لما صرح بالطلاق كان التخيير بين الإتيان بالرجعي وتركه ط عن البحر الخ (کتاب الطلاق،باب تفويض الطلاق،ج3،ص315،ط: ایچ ایم سعید)-
وفیہ ایضاً:تحت(قوله ما لم يوقته إلخ) فلو قال : جعلت لها أن تطلق نفسها اليوم اعتبر مجلس علمها في هذا اليوم ، فلو مضى اليوم ثم علمت خرج الأمر عن يدها،وكذا كل وقت قيد التفويض به وهي غائبة ولم تعلم حتى انقضى بطل خيارها فتح وبحر وسیاتی فروع فی التوقیت آخر الباب وانہ لایبطل الموقت بالاعراض الخ(کتاب الطلاق،باب تفويض الطلاق،ج3،ص315،ط: ایچ ایم سعید)-
وفي الهندية : قال لامرأته : طلقي نفسك ونوى الثلاث فطلقت نفسها ثلاثا مجتمعا أو متفرقا أو قالت : طلقت نفسي فثلاث ولو طلقت واحدة أو ثنتين وقعت ولو طلقت واحدة وسكنت ثم ثنتين وقعت واحدة كذا في التمرتاشي وإن نوى ثنتين تقع واحدة إلا إذا كانت أمة كذا في السراج الوهاج وإن نوى واحدة لم يقع شيء بإيقاع الثلاث عند أبي حنيفةؒ وعندهما تقع واحدة ولو طلقت واحدة ولا نية للزوج أو نوى واحدة فھي رجعية(كتاب الطلاق،الباب الثالث فی تفویض الطلاق، الفصل الثالث في المشية، ج1،ص:402،ط: ماجدیۃ)-
وفيھا : وليس للزوج ان يرجع في ذلك و لاينهاها عما جعل اليها ولا يفسخ ، كذا في الجوهرة (کتاب الطلاق،الباب الثالث،الفصل الاول فی الاختیار،ج1،ص 387، ط: مکتبۃ ماجدیۃ)-
وفی الدر:[فروع] نكحها على أن أمرها بيدها صح الخ
وفی الرد تحت(قوله: صح) مقيد بما إذا ابتدأت المرأة فقالت زوجت نفسي منك على أن أمري بيدي أطلق نفسي كلما أريد أو على أني طالق فقال الزوج قبلت، أما لو بدأ الزوج لا تطلق ولا يصح الأمر بيدها كما في البحر عن الخلاصة والبزازية الخ (کتاب الطلاق،باب الأمر باليد،ج3، ص 319،ط: ایچ ایم سعید)-
وفی مرقاۃ المفاتیح: عن ثوبانؓ قال: قال رسولﷺ "أيما امرأة سألت زوجها طلاقا فی غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة" رواه أحمد والترمذی وأبو داود وابن ماجه والدارمي، (کتاب النکاح، باب الخلع والطلاق، ج 5، ص 2136، المرقم: 3279، ط: دار الفکر، بیروت)-
وفی الھندیۃ: وإن قال لها: طلقی نفسك متى شئت فلها أن تطلق فی المجلس وبعده ولها المشيئة مرة واحدة، وكذا قوله: متى ما شئت وإذا ما شئت، ولو قال: كلما شئت كان ذلك لها أبدا حتى يقع ثلاثا كذا فی السراج الوهاج، الخ (کتاب الطلاق، الباب الثالث فی تفويض الطلاق، الفصل الثالث فی المشيئة، ج 1، ص 403، ط: مکتبۃ ماجدیۃ)-
وفی تفسیر القرطبیؒ: تحت قوله تعالى (وأشهدوا ذوی عدل منكم) فيه ست مسائل؛ الأولى قوله تعالى: وأشهدوا أمر بالإشهاد على الطلاق، وقيل: على الرجعة، والظاهر رجوعه إلى الرجعة لا إلى الطلاق، فإن راجع من غير إشهاد ففی صحة الرجعة قولان للفقهاء، وقيل: المعنى وأشهدوا عند الرجعة والفرقة جميعا، وهذا الإشهاد مندوب إليه عند أبی حنيفةؒ، كقوله تعالى: وأشهدوا إذا تبايعتم، وعند الشافعیؒ واجب فی الرجعة، مندوب إليه فی الفرقة، وفائدة الإشهاد ألا يقع بينهما التجاحد، الخ (ج 18، ص 157-158، ط: دار الکتب المصریۃ)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبداللہ اسد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 80077کی تصدیق کریں
0     15
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 6
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • گھر والوں کی دباؤ میں آکر طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
Related Topics متعلقه موضوعات