کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
۱:اگر کوئی شخص اپنی بیٹی کا رشتہ کسی جگہ طے کرے ،اور دولہا والوں سے جہیز کی خریداری کیلئے کچھ رقم کا مطالبہ کرے پھر چاہے جہیز کی خریداری اسی رقم سے ہو یا نہ ہو ۔ کیا باپ یا ولی کیلئے ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
۲۔ والدین کیلئے اپنی بیٹی کا بیچنا جائز ہے یا نہیں؟ اور بعد از فروخت بیٹی کا اپنے والدین کے گھر آنا جانا کیسا ہے ؟برائے کرام مذکورہ سوالات کے مدلل جوابات قرآن و حدیث کی روشنی میں عنایت فرما کر مشکور و ممنون فرمائیں ۔
بیٹی کا فروخت کرنا تو شرعاً آزاد کی بیع ہونے کی وجہ سے قطعاً ناجائز اور حرام ہے، اور احادیثِِ مبارکہ میں اس پر سخت قسم کی وعیدیں بھی وارد ہوئی ہیں۔ البتہ رخصتی سے قبل جہیز وغیر ہ کا لینا اگر معروف ہو تو اسکی گنجائش ہے، مگر محض ذاتی غرض کیلئے رخصتی کو بنیاد بنا کر رقم وصول کرنا یا شوہر کا انہیں اس لالچ کی بنیاد پر دینا رشوت کے زمرے میں آتا ہے، اس سے احتراز لازم ہے۔
كما في اعلاء السنن: عن أبي هريرة عن النبي {صلى الله عليه وسلم} قال قال الله تعالى ثلاثة ٌ أنا خصمهم يوم القيامة رجلٌ أعطى بي ثم غدر ورجلٌ باع حراً فأكل ثمنه ورجلٌ استأجر أجيراً فاستوفى منه ولم يعطه أجره اھ (3/ 184)۔
وفي بدائع الصنائع: ومنها أن يكون مالا لأن البيع مبادلة المال بالمال فلا ينعقد بيع الحر لأنه ليس بمال اھ (5/ 140)۔
وفي الفتاوى الهندية: ولو أخذ أهل المرأة شيئا عند التسليم فللزوج أن يسترده لأنه رشوة كذا في البحر الرائق (1/ 327)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1