: اگر میں ایک زمین یا مکان لیتا ہوں، اور ایک یا دو دن بعد ان کو فروخت کرتا ہوں، اس میں کتنا منافع جائز ہے؟
۲: زمین کی لین دین میں کتنا روپیہ جائز ہے کہ جو شخص ایک زمین دوسرے پر بیچ دیتا ہے؟
۳: زمین یا جائیداد بیچنا یا فروخت کرنا جائز ہے اور کیا منافع لینا جائز ہے ؟ اور اگر ایک شخص دوسرے کیلئے کوئی جائیداد لیتا ہے تو اُس میں پہلا شخص جو دوسرے کے لئے جائیداد لیتا ہے اس میں رقم لے سکتا ہے ؟
واضح ہو کہ پراپرٹی اور دوسرے کا روبار میں نفع لینے کی کوئی خاص حد مقرر نہیں ،تھوڑا یا زیادہ لیا جا سکتا ہے، البتہ اتنا زیادہ منافع وصول کرنا کہ اس کے کاروباری لوگوں اور تاجروں کے نزدیک وہ بہت زیادہ شمار ہوتا ہو، شرعا غبن فاحش کہلاتا ہے اور غبن فاحش مکروہِ تحریمی اور ناجائز ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
اسی طرح کسی دوسرے کیلئے کام کرنے پر اپنی اجرت یا کمیشن لینا بھی جائز ہے ،مگر یہ پہلے سے سے متعین ہونا چاہیئے۔
كما في حاشية ابن عابدين: لو آجرها بما لا يتغابن الناس فيه تكون فاسدة (إلی قوله) (قوله بغبن فاحش) هو ما لا يدخل تحت تقويم المقومين في التفسير المختار اھ (6/ 22)۔
وفي المبسوط للسرخسي: والسمسار اسم لمن يعمل للغير بالأجر بيعا وشراء ومقصوده من إيراد الحديث بيان جواز ذلك اھ (15/ 209)۔
وفي حاشية ابن عابدين: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل اھ (6/ 63)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1