محترم جناب مفتیانِ کرام دار الافتاء جامع بنوری ٹاؤن جناب عالی! السلام علیکم !
عرض ہے کہ فدوی ہوم اپلائنسز (فریج، واشنگ مشین ) وغیرہ کی تجارت کرتا ہے، ہمارے کوہاٹ میں ایک یونین ہے، جو کہ الیکٹرونکس کے کاروبار سے وابستہ 15-16 افراد پر مشتمل ہے ۔ 1997ء سے ہم نے ایک نظام بنایا ہوا ہے۔ جس سے کچھ اصول و ضوابط واضح ہیں۔ جن میں سب سے پہلے ریٹ کو فکس یعنی بیچنے کے ریٹ کو ہم جس آئٹم پر چاہیں، پابند کر لیتے ہیں۔ جو کہ مل کر طے ہوتا ہے۔ شروع میں یہ جرمانے کی بنیاد پر ہواکرتا تھا۔ یعنی اگر کسی نے کم ریٹ پر کوئی چیز فروخت کی اور پکڑا گیا، تو ہم یعنی یونین اُسے جرمانہ کرتی تھی ۔ پھر دیکھا گیا کہ دوکاندار رسید پوری کاٹ کر اور گاہک کو پابند کر کے کہ وہ کسی کو بھی بتائے گا نہیں کہ اسے ریٹ کم لگا ہے۔ فکسڈ آئٹم فروخت کر رہے تھے، اس طرح دیگر کی حق تلفی بھی ہوتی تھی ، اور مزید کہ کچھ یونینز میں ریٹ کو فکس کرنے اور صرف جرمانے پر جھگڑے ہوئے ،بات سنگین حالات کی طرف جانے لگی تو ہم نے مشترکہ طور پر مخصوص چیزوں کے ریٹ کو حلف (یعنی قسم اور کلمہ ) کی بنیاد فکس کر دیا قوانین کی بھی حلفاً پابند کر دیا ، یہ سب اس لئے ہوا کہ مسلمان کو حلف کے بغیر کوئی چیز پابند نہیں کر سکتی ، اور ہم یہ فکسنگ نہایت مناسب یعنی کم سے کم ریٹ پر جس میں گاہک اور تاجر دونوں کا فائدہ ہو کرتے ہیں،کیونکہ مہنگائی اور اخراجات اور ٹیکسز کو کاٹ کر رزق حلال کمانا ہر دکاندار چاہے چھوٹا ہو یا بڑا، کا حق بنتا ہے جب ہم نے کسی معاملے کو فکسنگ سے آزاد کرنا ہوتا،مشترکہ طور پر فیصلہ کرتے ہیں کہ فلاں چیز یا قانون کل سے حلف سے آزاد ہے،اس سارے معاملے میں ہر کسی دوکاندار کا فائدہ ہے، چاہے چھوٹے سرمائے والا ہے، یا بڑے سرمائے والا ،آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ ریٹ اور قوانین کو شرعاً کیسے اس طرح سے فکس کیا جا سکتا ہے؟ اگر یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے تو تفصیلاً لکھ کر جواب دیں۔ براہ مہربانی طریقہ کار جو شرعا صحیح ہو، واضح کر دیں۔
اولاً تو یہ واضح ہو کہ متعلقہ یونین جو حلف لیتی ہے، اگر یہ با قاعدہ تحریری شکل میں ہو تو اس کی کاپی ورنہ اس کو تحریر کر کے بھیج دیں، اسے دیکھنے کے بعد ہی اس حلف سے متعلق حکمِ شرعی بیان کیا جائے گا ۔ ثانیاً یہ کہ جب کسی دوکاندار تاجر نے کسی بھی کمپنی سے مال خرید لیا ،تو اب اس کے بیچنے میں شرعاً وہ آزاد ہے کہ کم نفع رکھ کر بیچے یا زیادہ ۔ اسے نفع کی ایک متعین مقدار کا پابند کرنا اور اس کی خلاف ورزی پر جرمانہ مالی یا حلف وغیرہ لینا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
البتہ کسی دکاندار کا اپنے گاہک سے اتنا ز یادہ نفع لینا جو عام تاجروں کی نظر میں بھی زیادہ ہو، مکروہ و ممنوع اور واجب الاحتراز عمل ہے، اس کی روک تھام کی کوشش کرنی چاہیئے، اسی طرح دوسرے دوکا ندار کی ضد وغیرہ میں اصلی نرخ سے بھی کم میں دے دینا زیادتی اور بدنیتی پر دلالت کرتا ہے، جس سے احتراز کی بھی اشد ضرورت ہے ۔ ایسے امور سے روک تھام کیلئے یہ صورت بھی اختیار کی جا سکتی ہے کہ ایسے دوکانداروں کو یونین کے تحفظ سے خارج کر دیا جائے، یا اس پر مزید مال بیچنے سے احتراز کیا جائےْ۔
کما في الدر المختار: (ولا يسعر حاكم) لقوله - عليه الصلاة والسلام - «لا تسعروا فإن الله هو المسعر القابض الباسط الرازق» (إلا إذا تعدى الأرباب عن القيمة تعديا فاحشا فيسعر بمشورة أهل الرأي) اھ (6/ 400،399)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله بغبن فاحش) هو ما لا يدخل تحت تقويم المقومين في التفسير المختار اھ (6/ 22)۔
وفي الهداية شرح البداية: ولا يترك القسام يشتركون كيلا تصير الأجرة غالية بتواكلهم وعند عدم الشركة يتبادر كل منهم إليه خيفة الفوت فيرخص الآجر اھ (4/ 42)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1