ایک عورت کو تین بار طلاق ہوگئی، اس نے دوسری شادی کی حلالہ کی نیت کے بغیر،اس نے کوشش کی ،لیکن اس کے دل سے سابقہ شوہر کی محبت نہیں نکل پارہی اور اس بات کا اندازہ دوسرے شوہر کو بھی ہو گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگرچہ دوسرے شوہر کے پاس اختیار پورا ہے کہ وہ طلاق نہ دے، لیکن ایسی صورتِ حال میں کہ جب خود دوسرے شوہر پر یہ واضح ہوچکا ہے کہ وہ عورت اُس کے ساتھ خوش نہیں رہ سکتی، ایسی صورت میں طلاق دینا کہ وہ پچھلے شوہر کے پاس جاسکے، یہ مکروہ عمل رہے گا یا اس کا دوسرے شوہر کو اجر مل سکتا ہے کہ وہ دو لوگوں کی تکلیف دور کرنے کا ذریعہ بن رہاہے؟
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی بھی قسم کی مبالغہ آرائی سے کام نہ لیا گیا ہو بایں طورکہ سائل کی بیوی پر سابق شوہر کی الفت ومحبت غالب ہو اور میاں بیوی کو مذکور رشتے میں جڑے رہنے سے ایک دوسرے کے حق تلفی کے مرتکب ہونے اور حدود اللہ قائم نہ رکھ سکنے کا یقین یا ظن غالب ہو تو ایسی صورت میں ان دونوں کے لیے باہمی رضامندی سے طلاق کے ذریعے علیحدگی اختیار کرنے کی گنجائش ہے ،اور اس طلاق دینے سے شوہر گناہ گار نہ ہوگا ،اور اس طلاق کی عدت گزارنے کے بعد شرعی طریقے سے سابقہ شوہر سے نکاح کرنے کے عمل کو حلالہ کے مکروہ عمل( جس پر حدیثِ مبارکہ میں وعید وارد ہوئی ہے) سے بھی تعبیر نہیں کیا جائے گا، اگرچہ اس عمل کو باعث اجر ثواب گرداننابھی درست نہ ہوگا۔
کما قال اللہ تعالیٰ: فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَا فِيمَا افۡتَدَتۡ بِهِ، تِلۡكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعۡتَدُوهَا وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ الظَّٰلِمُونَ، (سورۃ البقرۃ، الآیۃ: 229)-
وفی الھندیۃ: إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية، الخ (کتاب البلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حكمه،الفصل الأول في شرائط الخلع وحكمه وما يتعلق به، ج 1، ص 488، ط: مکتبۃ ماجدیۃ)-
وفی الفتح: تحت (قوله: إذا تشاق الزوجان) أي تخاصما (وخافا) أي علما، وحدود الله تعالى ما حدده من المواجب التي أمر أن لا تتجاوز، وهذا الشرط خرج مخرج الغالب إذ الباعث على الاختلاع غالبا ذلك، لا أنه شرط معتبر المفهوم وهو مشاقتهما كذا قيل، وقد يقال: جواب المسألة في كلام القدوري الإباحة، فإنه قال: لا بأس أن تفتدي نفسها منه بمال: وإباحة الأخذ منها مشروطة بمشاقتها فهو معتبر شرطا في ذلك (قوله فإذا فعلا ذلك وقع بالخلع تطليقة بائنة ولزمها المال) هذا حكم الخلع عند جماهير الأئمة من السلف والخلف، وذهب المزني إلى أن الخلع غير مشروع أصلا، وقيدت الظاهرية صحته بما إذا كرهته وخاف أن لا يوفيها حقها أو أن لا توفيه حقه ومنعته إذا كرهها هو، وقال قوم: لا يجوز إلا بإذن السلطان، روي عن ابن سيرين وسعيد بن جبير والحسن، (کتاب الطلاق، باب الخلع، ج 4، ص 211-212، ط: دار الفکر، بیروت)-