کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسماۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا نکاح مسمی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کے ساتھ ہوگیا تھا،ابھی ہماری رخصتی نہیں ہوئی تھی،لیکن ہم دونوں میاں بیوی کے درمیان خلوتِ صحیحہ ہوتی رہی،اس دوران ایک دن بحث مباحثہ کے دوران میرے شوہر نے میسج کے ذریعے تین مرتبہ طلاق کے الفاظ لکھ کر بھیج دیے،الفاظِ طلاق یہ تھے”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں،میں تمہیں طلاق دیتا ہوں،میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“اس کے بعد میرے شوہر نے فوراً وہ میسج ڈیلیٹ کردیے،لیکن میں نے سکرین شارٹ لی ہے،جو سوال کے ساتھ منسلک ہے۔
اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں؟اور اگر ہم دوبارہ گھر آباد کرنا چاہیں تو ہمارے لیے کیا حکم ہے؟اور کیا طریقہ ہے؟ جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں!
سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو،اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اور واقعۃً سائلہ کے شوہر ۔۔۔۔۔۔خلوتِ صحیحہ کے بعد مذکور الفاظِ طلاق”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں،میں تمہیں طلاق دیتا ہوں،میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“میسج کے ذریعے بھیجے ہوں تو اس سے سائلہ پرتینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا،اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے علیحدہ رہیں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں،ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ سائلہ ایامِ عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایامِ عدت کے بعد بغیر کسی شرط کےکسی دوسرے شخص سے اپنا عقدِ نکاح کرے ، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ کی ہمبستری ( جو کہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کےلئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد اسے طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے، مگر اس کا پہلے انتقال ہوجائے ، تو بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقدِ نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہربھی اسےرکھنےپررضامند ہو تو نئے مہر پر گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کرکےباہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسرکرسکتے ہیں،
تاہم حلالہ ا س شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا، تاکہ زوجِ اول دوبارہ اس کے ساتھ عقدِ نکاح کرے، یہ مکروہِ تحریمی ہے ، اس پر احادیث ِمبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، لہٰذا ایسے حلالہ سے احتراز لازم ہے ، جبکہ بلاشرط بلا شبہ جائزاور درست ہے ۔
قال اللہ تعالٰی : فان طلقھا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ ( سورۃ البقرۃ آیت230)۔
وفی احکام القرآن للجصاصؒ: ( فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ) فحکم بتحریمھا علیہ بالثالثۃ بعد الاثنین و لم یفرق بین ایقاعھما فی طھر واحد او فی اطھار فوجب الحکم بایقاع الجمیع علی ایّ وجہ اوقعہ الخ (ج1 ص386 ط: سھیل اکیڈیمی لاھور باکستان ) ۔
وفی الہندیۃ: وان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ(الی قولہ)لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحاو یدخل بھا ثم یطلقھا او یموت عنھا کذا فی الھدایہ اھ(کتاب الطلاق 1/ 506ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: الكفاءة معتبرة في الرجال للنساء للزوم النكاح، كذا في محيط السرخسي ولا تعتبر في جانب النساء للرجال، كذا في البدائع. فإذا تزوجت المرأة رجلا خيرا منها؛ فليس للولي أن يفرق بينهما فإن الولي لا يتعير بأن يكون تحت الرجل من لا يكافئوه، كذا في شرح المبسوط للإمام السرخسي الخ(ج1 ص290 کتاب النکاح ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: لا يجوز نكاح أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته؛ جاز، وإن ردته بطل، كذا في السراج الوهاج الخ (ج1 ص287 کتاب النکاح الباب الرابع فی الاولیاء ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: إذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو ثلاثا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء سواء كانت الحرة مسلمة أو كتابية كذا في السراج الوهاج الخ(ج1 ص526 کتاب الطلاق ط: ماجدیۃ)۔