السلام علیکم، مفتی صاحب! میرا سوال یہ ہے کہ الحمدللہ اللہ تعالی نے مجھے بیٹی عطا کی، میری بیٹی دو مہینے کی ہونے والی ہے اور جب میں اسے اٹھاتا ہوں، پیار کرتا ہوں، چومتا ہوں تو مجھے شہوت کے وسوسے آتے ہیں کہ کہیں حرمت نہ ثابت ہو جائے، میں ڈرتا رہتا ہوں، اس وجہ سے میں نہ اپنی بیٹی سے پیار کر پاتا ہوں، میں کیا کروں؟ ایک دن میں نے ان وسوسوں کو دھیان نہ دیتے ہوئے اپنی بیٹی سے پیار کرنا چاہا، جیسے باپ اپنی بیٹی سے پیار کرتا ہے تو جب میں اس کو چوم رہا تھا تو مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ مجھے شہوت ہو رہی ہے، جبکہ میں نے اپنی بیٹی کو کبھی شہوت سے ہاتھ لگا یا ہی نہیں، نہ میری نیت ہے، پھر میں ان وسوسوں کو دھیان نہ دیتے ہوئے اپنی بیٹی کو باپ کی طرح چوم رہا تھا تو مجھے وسوسے آ رہے تھے، میں ان کی طرف دھیان نہیں دے رہا تھا، جب اپنی بیٹی کو پیار کر کے میں اٹھا تو مجھے ایسا لگا کہ میرا مخصوص حصہ اپنی جگہ سے تھوڑا اٹھا ہوا ہے تو میں میری کوئی نیت شہوت کی نہیں تھی بس وسوسے پریشان کرتے ہیں، میں کیا کروں ؟ نا میں اپنی بیٹی سے پیار کر پاتا ہوں، نہ میں اس کو چوم پاتا ہوں ان وسوسوں کی وجہ سے، آپ مجھے بتائیں کہ اب کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ حرمتِ مصاہرت کے ثبوت کی منجملہ شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ لڑکی مشتہاۃ (کم سے کم نو سال کی) ہو، اس سے کم عمر کی لڑکی سے حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوتی، لہذا سائل کا اپنی بیٹی سے پیار کرنے کی وجہ سے اس کے نکاح پر شرعاً کوئی فرق نہیں پڑا، بلکہ یہ محض وساوس اور خیالات ہیں جن کی طرف دیہان دینے کی ضرورت نہیں، نیز وساوس آنے کے بعد اسے ختم کرنے کے لیے ”لا حول ولا قوۃ الا باللہ“ کا ورد کرتے رہیں تو ان شاء اللہ اس سے فائدہ ہوگا۔
ففی حاشية ابن عابدين: فتحصل من هذا: أنه لا بد في كل منهما من سن المراهقة وأقله للأنثى تسع وللذكر اثنا عشر؛ لأن ذلك أقل مدة يمكن فيها البلوغ كما صرحوا به في باب بلوغ الغلام، وهذا يوافق ما مر من أن العلة هي الوطء الذي يكون سببا للولد أو المس الذي يكون سببا لهذا الوطء، ولا يخفى أن غير المراهق منهما لا يتأتى منه الولد. (3/ 35)