کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام درجِ ذیل مسائل کے بارے میں کہ :
۱: ہمارے گاؤں میں مختلف این، جی ،اوز ترقیاتی کام کر رہے ہیں اور ان میں سےایک کا تعلق ڈنمارک سے ہے، یہ کمپنی مختلف ترقیاتی کام کر رہی ہے، مثلاً پانی کے لئے پائب لائن بچھانا، سیلاب کے لئے بند باندھنا وغیرہ، نیز حکومتِ پاکستان سے ان کا کوئی معاہدہ بھی نہیں ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس ادارے کے ساتھ تعاون کرنا یا اس میں مزدوری کر کے پیسے لینا جائز ہے یا نہیں؟
۲: اگر کمپنی نے اپنے آپ کو حکومت پاکستان سے منظور شدہ ظاہر کیا ہو ،اور اس دھوکے میں آکر بعض لوگوں نے مزدوری کی ہو تو اس پیسے کا کیا حکم ہے؟ نیز اب جب معلوم ہو گیا ہے کہ حکومت پاکستان سے منظور نہیں تو اس ادارے میں کام کرنا کیسا ہے؟
۳: جو بھی ترقیاتی کام مکمل ہوتا ہے، تو جنتے افراد اس کام میں شریک ہوتے ہیں ان کی تعمیر شدہ کام کی تصویر سازی کی جاتی ہے، اس کا کیا حکم ہے؟
جو ’’این ،جی، اوز غریب و نادار لوگوں یا کسی مصیبت زده و پسماندہ علاقہ کے باشندوں کے انفرادی یا اجتماعی معاملات کو سنوارنے میں مدد کر رہی ہوں، یا پورے علاقہ کیلئے ترقیاتی کام کر رہی ہوں ،ان کے ساتھ معاونت کرنا اور ان سے تنخواہ لینا شرعاً بھی جائز اور درست ہے۔
اور جو کمپنی ایسی نہ ہوں ،یا ان رفاہی اور فلاحی کاموں کے پسِ پردہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل میں سرگرداں ہوں، جیسے بے حیائی اور فحاشی کی ترویج کے ساتھ ساتھ سادہ لوح مسلمانوں کو دنیاوی لالچ دیکر یہودیت و عیسائیت کی تبلیغ کرتے ہوں۔ ان میں اسلام کے خلاف نفرت بڑھانے اور اس سے بیزار کرنے اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں انہیں استعمال کرتے ہوں جیسا کہ اکثر مغربی ’’این جی اوز‘‘ کا وطیرہ ہے،اس کے ساتھ کسی قسم کا میل جول رکھنے یا انکے ساتھ ملازمت اختیار کرنے سے احتراز لازم ہے ۔ بلکہ اس صورتِ حال (جبکہ وہ کمپنی حکومت سے منظور شدہ نہیں ہے) میں حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے موذی اور مسلم معاشرہ کیلئے گمراہ کن عناصر کی وباء کو ختم کرنے کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو استعمال کرے اور انہیں ملک سے نکلنے پر مجبور کرے اور ایسے نظریات کے حامی لوگوں پر بھی پابندی عائد کرے تاکہ مسلم معاشرہ امن و سکون کیساتھ احکاماتِ شرعیہ پر عمل کرنے میں آزاد ہو سکے ۔
جبکہ بلا ضرورتِ شدیدہ کے تصویر کھینچوانا بھی حرام ہے لہذا اس سے بھی احتراز لازم ہے۔
كما قال الله تعالى: ﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى﴾ (المائدة: 2)۔
وفي تكملة فتح الملهم: أن الأمر في الاستعانة بالمشركين موكول الى مصلحة الاسلام والمسلمين، فان كان يؤمن عليهم من الفساد، وكان في الاستعانة بهم مصلحة فلا بأس بذلك ان شاء الله تعالى اذا كان حكم الإسلام هو الظاهر، ويكون الكفار تبعا للمسلمين، وإن كان للمسلمين عنهم غنى أو كانوا هم القادة والمسلمون تبعا لهم، أو يخاف منهم الفساد فلا يجوز الاستعانة بهم اھ ( ۳ / ٣٦٩) ۔
وفيه ايضاً: عن عبيد بن عمر رضی الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ان الذين يصنعون هذه الصور يعذبون يوم القيامة، يقال لهم أحيوا ما خلقتم، و اخرجه البخاري اھ (۴/ ۱۵۵)-
’این ،جی، اوز کاغریب و نادار لوگوں یا کسی مصیبت زده و پسماندہ علاقہ کے باشندوں کی مدد کرنا،اور ان کے ساتھ معاونت کرنا
یونیکوڈ 0