السلام علیکم! میری عمر چالیس سال کے قریب ہے، اور میں پندرہ سالوں سے ایک بیماری میں مبتلا ہوں اور میں ایک غریب سرکاری ملازم ہوں ، میری تکلیف یہ ہے کہ میرے منہ سے بدبو آ رہی ہے ، جو ہر شخص محسوس کرتا ہے ، وہ بدبو معدے سے آ رہی ہے، جس کی وجہ سے میں دنیا سے الگ تھلگ ہو چکا ہوں ، علاج بہت کیا ہے، مگر خاص فائدہ نہیں ہوا ہے، دن میں تین وقت مسواک کرتا ہوں اور رات کو سونے سے پہلے پیسٹ کرکے سوتا ہوں، مسجد نہیں جا سکتا ہوں گھر پر نماز پڑھتا ہوں ، مسجد میں میرے ساتھ باجماعت نمازی سارے اس بدبو کی وجہ سے منہ اور ناک چھپا کر نماز ادا کرتے ہیں اور اب میرے ساتھ کوئی نمازی نزدیک کھڑے ہونے کو تیار نہیں ، اور رمضان المبارک میں اس تکلیف کی وجہ سے میرے اکثر روزے خراب ہوتے ہیں ، پوچھنا یہ ہے کہ:
۱۔ میرا گھر پر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ مجھ کو باجماعت پڑھنا بہت پسند ہے؟
۲۔ روزے میں منہ دواری لینا کیسا ہے؟
۳۔ خدا کے لۓ علاج کا صحیح مشورہ عنایت فرما دیں۔
یہ بدبو اکثر معدہ کی خرابی کی وجہ سے ہوتی ہے ، جس کا بہتر علاج کسی ماہر کسی حکیم یا ہومیو پیتھک ڈاکٹر سے کروایا جا سکتا ہے ، اور ساتھ ساتھ مسواک کا بکثرت استعمال اور سبز الائچی اور سونف وغیرہ بھی اپنے استعمال میں رکھیں ، اور اللہ تعالیٰ سے اس بیماری و پریشانی سے نجات کی دُعا بھی کرتے رہیں، اُمید ہے کہ بہت جلداس سے نجات حاصل ہو۔
تاہم اگر بدبو زیادہ ہونے کی وجہ سے واقعۃً دیگر نمازیوں کو ایذاء ہوتی ہو تو سائل کے لۓ ترکِ جماعت کی گنجائش ہے۔
فی حاشية ابن عابدين : (قوله و أكل نحو ثوم) أي كبصل و نحوه مما له رائحة كريهة ، للحديث الصحيح في النهي عن قربان آكل الثوم و البصل المسجد . قال الإمام العيني في شرحه على صحيح البخاري قلت : علة النهي أذى الملائكة و أذى المسلمين و لا يختص بمسجده - عليه الصلاة و السلام -، بل الكل سواء لرواية مساجدنا بالجمع ، خلافا لمن شذ و يلحق بما نص عليه في الحديث كل ما له رائحة كريهة مأكولا أو غيره ، (إلی قوله) و كذلك ألحق بعضهم بذلك من بفيه بخر أو به جرح له رائحة ، (إلی قوله) لما في صحيح ابن حبان عن المغيرة بن شعبة قال انتهيت إلى رسول الله - صلى الله عليه و سلم - فوجد مني ريح الثوم فقال : من أكل الثوم ، فأخذت يده فأدخلتها فوجد صدري معصوبا ، فقال : إن لك عذرا (إلی قوله) أن أكل هذه الأشياء عذر في التخلف عن الجماعة . (1/ 661)۔